سنن الدارقطني
كتاب الطلاق والخلع والإيلاء وغيره— طلاق اور لعان کا بیان
أَوَّلُ كِتَابِ الطَّلَاقِ وَغَيْرِهِ باب: طلاق، خلع، ایلاء، وغیرہ کے بارے میں روایات
حدیث نمبر: 4016
نَا نَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ مَنْصُورٍ ، نَا رَوْحٌ ، نَا سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ ، عَنْ سَالِمٍ الأَفْطَسِ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنَّهُ أَتَاهُ رَجُلٌ ، فَقَالَ : " إِنِّي جَعَلْتُ امْرَأَتِي عَلَيَّ حَرَامًا ، فَقَالَ : كَذَبْتَ لَيْسَتْ عَلَيْكَ بِحَرَامٍ ، ثُمَّ تَلا يَأَيُّهَا النَّبِيُّ لِمَ تُحَرِّمُ مَا أَحَلَّ اللَّهُ لَكَ سورة التحريم آية 1 عَلَيْكَ أَغْلَظُ الْكَفَّارَاتِ ، عِتْقُ رَقَبَةٍ " .محمد محی الدین
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کے بارے میں منقول ہے کہ ایک شخص ان کے پاس آیا اور بولا: میں نے اپنی بیوی کو اپنے پر حرام قرار دیا ہے۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: تم نے غلط کہا، وہ تم پر حرام نہیں ہوئی۔ پھر انہوں نے یہ آیت تلاوت کی: ”اے نبی! تم اس چیز کو کیوں حرام قرار دیتے ہو، جو اللہ نے تمہارے لیے حلال قرار دیا ہے۔“ (پھر سیدنا ابن عباس نے فرمایا) تم پر سب سے زیادہ سخت کفارہ عائد ہو گا یعنی غلام آزاد کرنا۔