سنن الدارقطني
كتاب الطلاق والخلع والإيلاء وغيره— طلاق اور لعان کا بیان
أَوَّلُ كِتَابِ الطَّلَاقِ وَغَيْرِهِ باب: طلاق، خلع، ایلاء، وغیرہ کے بارے میں روایات
نَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، نَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ شَبِيبٍ ، حَدَّثَنِي إِسْحَاقُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، نَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ ، حَدَّثَنِي أَبُو النَّصْرِ مَوْلَى عُمَرَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ الْحُسَيْنِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنْ عُمَرَ ، قَالَ : " دَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِأُمِّ وَلَدِهِ مَارِيَةَ فِي بَيْتِ حَفْصَةَ ، فَوَجَدْتُهُ حَفْصَةُ مَعَهَا ، فَقَالَتْ لَهُ : " تُدْخِلُهَا بَيْتِي ، مَا صَنَعْتَ بِي هَذَا مِنْ بَيْنَ نِسَائِكَ إِلا مِنْ هَوَانِي عَلَيْكَ ، فَقَالَ : لا تَذْكُرِي هَذَا لِعَائِشَةَ فَهِيَ عَلَيَّ حَرَامٌ إِنْ قَرَبْتُهَا، قَالَتْ حَفْصَةُ : وَكَيْفَ تُحَرَّمُ عَلَيْكَ وَهِيَ جَارِيَتُكَ ؟ فَحَلَفَ لَهَا لا يَقْرَبُهَا ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : لا تَذْكُرِيهِ لأَحَدٍ ، فَذَكَرَتْهُ لِعَائِشَةَ فَآلَى لا يَدْخُلُ عَلَى نِسَائِهِ شَهْرًا ، فَاعْتَزَلَهُنَّ تِسْعًا وَعِشْرِينَ لَيْلَةً ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ لِمَ تُحَرِّمُ مَا أَحَلَّ اللَّهُ لَكَ سورة التحريم آية 1 " ، قَالَ : وَالْحَدِيثُ بِطُولِهِ طَوِيلٌ.سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی ام ولد، سیدہ ماریہ قبطیہ رضی اللہ عنہا کو ساتھ لے کر سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا کے گھر میں آئے، جب سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ اس خاتون کو دیکھا تو انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا: آپ اسے میرے گھر کے اندر لے آئے ہیں؟ آپ نے اپنی دیگر ازواج کو چھوڑ کر میرے ساتھ ایسا اس لیے کیا ہے، کیونکہ (آپ کے نزدیک میری کوئی حیثیت نہیں ہے)؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم عائشہ کے سامنے اس کا ذکر نہیں کرنا، یہ (کنیز) میرے لیے حرام ہے کہ میں اس کے قریب جاؤں۔“ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ حلف اٹھایا کہ آپ اس (کنیز) کے قریب نہیں جائیں گے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم اس بات کا تذکرہ کسی سے نہیں کرنا۔“ لیکن سیدہ حفصہ نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے اس کا ذکر کر دیا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے (اپنی ازواج) سے ایلاء کیا کہ آپ ایک ماہ تک اپنی ازواج کے پاس تشریف نہیں لے جائیں گے۔ آپ نے 29 دن تک اپنی ازواج سے علیحدگی اختیار کیے رکھی پھر اللہ نے یہ آیت نازل کی: ”تم اس چیز کو کیوں حرام قرار دیتے ہو جو اللہ نے تمہارے لیے حلال قرار دیا ہے۔“ راوی کہتے ہیں اس کے بعد طویل حدیث ہے۔