سنن الدارقطني
كتاب الطلاق والخلع والإيلاء وغيره— طلاق اور لعان کا بیان
أَوَّلُ كِتَابِ الطَّلَاقِ وَغَيْرِهِ باب: طلاق، خلع، ایلاء، وغیرہ کے بارے میں روایات
نَا نَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، نَا يَعْقُوبُ الدَّوْرَقِيُّ ، نَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عُلَيَّةَ ، نَا هِشَامٌ الدَّسْتُوَائِيُّ ، قَالَ : كَتَبَ إِلَيَّ يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ يُحَدِّثُ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنْ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : " الْحَرَامُ يَمِينٌ يُكَفِّرُهَا " .عکرمہ، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کا یہ قول نقل کرتے ہیں: (بیوی کے لیے) لفظ حرام کا استعمال کرنا (طلاق نہیں) بلکہ قسم ہے جس کا کفارہ ادا کرنا ہو گا۔ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما لفظ حرام استعمال کرنے کے بارے میں فرماتے ہیں: یہ قسم ہے جس کا کفارہ ادا کیا جائے گا۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: تمہارے لیے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت میں بہترین نمونہ ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی کنیز کو حرام قرار دیا تھا، اللہ نے فرمایا: ”تم اسے کیوں حرام قرار دیتے ہو جسے اللہ نے تمہارے لیے حلال قرار دیا ہے۔“ یہ آیت یہاں تک ہے: ”قد فرض اللہ لکم۔“ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی قسم کا کفارہ ادا کیا اور آپ نے لفظ حرام استعمال کرنے کو قسم قرار دیا۔