سنن الدارقطني
كتاب الطلاق والخلع والإيلاء وغيره— طلاق اور لعان کا بیان
أَوَّلُ كِتَابِ الطَّلَاقِ وَغَيْرِهِ باب: طلاق، خلع، ایلاء، وغیرہ کے بارے میں روایات
نَا نَا أَبُو بَكْرٍ ، نَا أَبُو الأَزْهَرِ ، نَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ ، نَا عُبَيْدُ اللَّهِ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ فِي الأَمَةِ تَكُونُ تَحْتَ الْحُرِّ تَبِينُ بِتَطْلِيقَتَيْنِ ، وَتَعْتَدُّ حَيْضَتَيْنِ ، وَإِذَا كَانَتِ الْحُرَّةُ تَحْتَ الْعَبْدِ بَانَتْ بِتَطْلِيقَتَيْنِ ، وَتَعْتَدُّ ثَلاثَ حِيَضٍ " ، وَكَذَلِكَ رَوَاهُ اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ ، وَابْنُ جُرَيْجٍ ، وَغَيْرُهُمَا ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ مَوْقُوفًا ، وَهَذَا هُوَ الصَّوَابُ . وَحَدِيثُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عِيسَى ، عَنْ عَطِيَّةَ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثَابِتٌ مِنْ وَجْهَيْنِ ، أَحَدُهُمَا : أَنَّ عَطِيَّةَ ، ضَعِيفٌ ، وَسَالِمٌ ، وَنَافِعٌ أَثْبَتُ مِنْهُ وَأَصَحُّ رِوَايَةً ، وَالْوَجْهُ الآخَرُ أَنَّ عَمْرَو بْنَ شَبِيبٍ ، ضَعِيفُ الْحَدِيثِ ، لا يُحْتَجُّ بِرِوَايَتِهِ ، وَاللَّهُ أَعْلَمُ.سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما، ایسی کنیز جو کسی آزاد شخص کی بیوی ہو، اس کے بارے میں یہ فرماتے ہیں: ”وہ دو طلاقوں کے ذریعے بائنہ ہو جائے گی، اور دو حیض عدت بسر کرے گی، اور جب کوئی آزاد عورت کسی غلام کی بیوی ہو، تو وہ دو طلاقوں کے ذریعے بائنہ ہو جائے گی اور تین حیض تک عدت گزارے گی۔“ یہ روایت دیگر راویوں نے بھی، موقوف، روایت کے طور پر نقل کی ہے اور یہی درست ہے کہ ایک اور سند کے ساتھ یہ روایت مرفوع حدیث کے طور پر نقل کی گئی ہے، یہ روایت منکر ہے اور دو حوالوں سے ثابت نہیں ہے، ایک یہ کہ عطیہ نامی راوی ضعیف ہے، جبکہ سالم اور نافع زیادہ ثبت اور صحیح روایت نقل کرنے والے ہیں، دوسرا پہلو یہ ہے کہ عمرو بن شیب، ضعیف الحدیث، ہے، اس کی نقل کردہ روایت سے استدلال نہیں کیا جا سکتا، باقی اللہ بہتر جانتا ہے۔