سنن الدارقطني
كتاب الطلاق والخلع والإيلاء وغيره— طلاق اور لعان کا بیان
أَوَّلُ كِتَابِ الطَّلَاقِ وَغَيْرِهِ باب: طلاق، خلع، ایلاء، وغیرہ کے بارے میں روایات
حدیث نمبر: 3996
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ ، نَا أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ ، وَأَحْمَدُ بْنُ يُوسُفَ السُّلَمِيُّ ، قَالا : نَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أنا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَالِمٍ ، أَنَّ ابْنَ عُمَرَ كَانَ يَقُولُ " فِي الْعَبْدِ تَكُونُ تَحْتَهُ الْحُرَّةُ ، أَوِ الْحُرِّ تَكُونُ تَحْتَهُ الأَمَةُ ، قَالَ : أَيُّهُمَا رُقَّ نَقَصَ الطَّلاقُ بَرِقِّهِ ، وَالْعُدَّةُ بِالنِّسَاءِ " .محمد محی الدین
سالم بیان کرتے ہیں: ”جو شخص غلام ہو اور اس کی بیوی آزاد عورت ہو، یا مرد آزاد ہو اور اس کی بیوی کنیز ہو، تو میاں بیوی میں سے جو بھی مملوک ہو، تو طلاق میں اس مملوکیت کی وجہ سے کمی آ جائے گی، البتہ عدت میں عورت کی حیثیت کا اعتبار کیا جائے گا۔“