سنن الدارقطني
كتاب الطلاق والخلع والإيلاء وغيره— طلاق اور لعان کا بیان
أَوَّلُ كِتَابِ الطَّلَاقِ وَغَيْرِهِ باب: طلاق، خلع، ایلاء، وغیرہ کے بارے میں روایات
نَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ سُلَيْمَانَ النُّعْمَانِيُّ ، قَالا : نَا أَبُو عُتْبَةَ أَحْمَدُ بْنُ الْفَرَجِ ، نَا بَقِيَّةُ بْنُ الْوَلِيدِ ، نَا أَبُو الْحَجَّاجِ الْمَهْرِيُّ ، عَنْ مُوسَى بْنِ أَيُّوبَ الْغَافِقِيِّ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : " جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَشْكُوا أَنَّ مَوْلاهُ زَوَّجَهُ ، وَهُوَ يُرِيدُ أَنْ يُفَرِّقَ بَيْنَهُ وَبَيْنَ امْرَأَتِهِ ، فَحَمِدَ اللَّهَ تَعَالَى وَأَثْنَى عَلَيْهِ ، ثُمَّ قَالَ : مَا بَالُ قَوْمٌ يُزَوِّجُونَ عَبِيدَهُمْ إِمَاءَهُمْ ، ثُمَّ يُرِيدُونَ أَنْ يُفَرِّقُوا بَيْنَهُمْ ، أَلا إِنَّمَا يَمْلِكُ الطَّلاقَ مَنْ أَخَذَ بِالسَّاقِ " .سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: ایک شخص نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور یہ شکایت کی کہ اس کے آقا نے اس کی شادی کروائی اور اب وہ آقا چاہتا ہے کہ اس کے اور اس کی بیوی کے درمیان علیحدگی کروا دے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ کی حمد و ثنا بیان کی، پھر آپ نے (خطبہ دیتے ہوئے) ارشاد فرمایا: ”لوگوں کو کیا ہو گیا، وہ پہلے اپنے غلاموں کی شادیاں اپنی کنیزوں سے کروا دیتے ہیں اور پھر وہ ان کے درمیان علیحدگی کروانا چاہتے ہیں، خبردار! طلاق دینے کا اختیار اس کو ہونا ہے، جو پنڈلی کو پکڑتا ہے۔“