سنن الدارقطني
كتاب الطلاق والخلع والإيلاء وغيره— طلاق اور لعان کا بیان
أَوَّلُ كِتَابِ الطَّلَاقِ وَغَيْرِهِ باب: طلاق، خلع، ایلاء، وغیرہ کے بارے میں روایات
نَا نَا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى . ح وَنا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ أَبِي الثَّلْجِ ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ حَمَّادٍ الطِّهْرَانِيُّ . ح وَنا مُحَمَّدُ بْنُ مَخْلَدٍ ، نَا أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ ، قَالُوا : نَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنِي عَمِّي وَهْبُ بْنُ نَافِعٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ عِكْرِمَةَ مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ ، يَقُولُ : قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ : " الطَّلاقُ عَلَى أَرْبَعَةِ وُجُوهٍ : وَجْهَانِ حَلالٌ ، وَوَجْهَانِ حَرَامٌ ، فَأَمَّا اللَّذَانِ هُمَا حَلالٌ : فَأَنْ يُطَلِّقَ الرَّجُلُ امْرَأَتَهُ طَاهِرًا عَنْ غَيْرِ جِمَاعٍ ، أَوْ يُطَلِّقَهَا حَامِلا مُسْتَبِينًا حَمْلُهَا ، وَأَمَّا اللَّذَانِ هُمَا حَرَامٌ : فَأَنْ يُطَلِّقَهَا حَائِضًا ، أَوْ يُطَلِّقَهَا عِنْدَ الْجِمَاعِ لا يَدْرِي أَشْتَمَلَ الرَّحِمُ عَلَى وَلَدٍ أَمْ لا ؟ " ، لَفْظُ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى.سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: ”طلاق کے چار طریقے ہیں، ان میں سے دو طریقے حلال ہیں، اور دو طریقے حرام ہیں، جہاں تک دو حلال طریقوں کا تعلق ہے، تو وہ یہ کہ آدمی اپنی بیوی کو اس کے طہر کے عالم میں، اس کے ساتھ صحبت کیے بغیر طلاق دے یا وہ اپنی بیوی کو اس وقت طلاق دے، جب وہ عورت حاملہ ہو اور اس کا حمل واضح ہو، جہاں تک ان دو طریقوں کا تعلق ہے، جو حرام ہیں، تو وہ یہ کہ آدمی اپنی بیوی کو اس کے حیض کے دوران طلاق دے دے، یا اس کے ساتھ صحبت کرنے کے بعد اسے طلاق دے دے، جس میں یہ پتہ نہ چل سکے (اس صحبت کے نتیجے میں) حمل قرار پایا ہے یا نہیں۔“