سنن الدارقطني
كتاب الطلاق والخلع والإيلاء وغيره— طلاق اور لعان کا بیان
أَوَّلُ كِتَابِ الطَّلَاقِ وَغَيْرِهِ باب: طلاق، خلع، ایلاء، وغیرہ کے بارے میں روایات
نَا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ نُصَيْرٍ ، نَا أَحْمَدُ بْنُ يَحْيَى الْحُلْوَانِيُّ ، نَا عَلِيُّ بْنُ قَرِينٍ ، نَا بَقِيَّةُ بْنُ الْوَلِيدِ ، عَنْ ثَوْرِ بْنِ يَزِيدَ ، عَنْ خَالِدِ بْنِ مَعْدَانَ ، عَنْ أَبِي ثَعْلَبَةَ الْخُشَنِيِّ ، قَالَ : قَالَ لِي عَمٌّ لِي : " اعْمَلْ لِي عَمَلا حَتَّى أُزَوِّجَكَ ابْنَتِي ، فَقُلْتُ : إِنْ تُزَوِّجْنِيهَا فَهِيَ طَالِقٌ ثَلاثًا ، ثُمَّ بَدَا لِي أَنْ أَتَزَوَّجَهَا ، فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَأَلْتُهُ ، فَقَالَ لِي : تَزَوَّجْهَا ، فَإِنَّهُ لا طَلاقَ إِلا بَعْدَ نِكَاحٍ " ، فَتَزَوَّجْتُهَا فَوَلَدَتْ لِي سَعْدًا وَسَعِيدًا " .سیدنا ابوثعلبہ خشنی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میرے چچا نے مجھ سے کہا: ”تم میرے لیے کام کاج کرو، تاکہ میں اپنی بیٹی کی شادی تمہارے ساتھ کر دوں۔“ میں نے کہا: ”اگر آپ میری شادی اس کے ساتھ کی، تو اسے تین طلاقیں ہیں۔“ پھر بعد میں مجھے مناسب محسوس ہوا کہ میں اس خاتون کے ساتھ شادی کر لوں، میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، میں نے آپ سے (اس بارے میں) دریافت کیا، تو آپ نے مجھے فرمایا: ”تم اس عورت کے ساتھ شادی کر لو، کیونکہ طلاق، نکاح کے بعد ہی دی جا سکتی ہے۔“ تو میں نے اس عورت کے ساتھ شادی کر لی، تو میرے ہاں سعد اور سعید پیدا ہوئے۔