سنن الدارقطني
كتاب الطلاق والخلع والإيلاء وغيره— طلاق اور لعان کا بیان
أَوَّلُ كِتَابِ الطَّلَاقِ وَغَيْرِهِ باب: طلاق، خلع، ایلاء، وغیرہ کے بارے میں روایات
نَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ مُوسَى بْنِ عَلِيٍّ الدَّوْلابِيُّ ، وَيَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالا : نَا الْحَسَنُ بْنُ عَرَفَةَ ، نَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ مَالِكٍ اللَّخْمِيِّ ، عَنْ مَكْحُولٍ ، عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ ، قَالَ : قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " يَا مُعَاذُ ، مَا خَلَقَ اللَّهُ شَيْئًا عَلَى وَجْهِ الأَرْضِ أَحَبَّ إِلَيْهِ مِنَ الْعَتَاقِ ، وَلا خَلَقَ اللَّهُ شَيْئًا عَلَى وَجْهِ الأَرْضِ أَبْغَضَ إِلَيْهِ مِنَ الطَّلاقِ ، فَإِذَا قَالَ الرَّجُلُ لِمَمْلُوكِهِ : أَنْتَ حُرٌّ إِنْ شَاءَ اللَّهُ فَهُوَ حُرٌّ ، وَلا اسْتِثْنَاءَ لَهُ ، وَإِذَا قَالَ الرَّجُلُ لامْرَأَتِهِ : أَنْتِ طَالِقٌ إِنْ شَاءَ اللَّهُ ، فَلَهُ اسْتِثْنَاؤُهُ ، وَلا طَلاقَ عَلَيْهِ " ،.سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: ”اے معاذ! اللہ تعالیٰ نے روئے زمین پر کوئی ایسی چیز پیدا نہیں کی، جو اس کے نزدیک غلام آزاد کرنے سے زیادہ پسندیدہ ہو اور اللہ تعالیٰ نے روئے زمین پر کوئی ایسی چیز پیدا نہیں کی، جو اس کے نزدیک طلاق سے زیادہ ناپسندیدہ ہو، تو جب کوئی شخص اپنے مملوک سے یہ کہے: اگر اللہ تعالیٰ نے چاہا، تو تم آزاد ہو، تو وہ غلام آزاد شمار ہو گا، اور قائل کو استثناء کا حق حاصل نہیں ہو گا، اگر کوئی شخص اپنی بیوی سے یہ کہے: اگر اللہ نے چاہا، تو تمہیں طلاق ہے، تو اس شخص کو استثناء کا حق حاصل ہو گا اور طلاق واقع نہیں ہو گی۔“