حدیث نمبر: 3982
نَا دَعْلَجُ بْنُ أَحْمَدَ ، نَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، نَا حَبَّانُ ، أنا ابْنُ الْمُبَارَكِ ، أنا الزُّبَيْرُ بْنُ سَعِيدٍ ، أَخْبَرَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَلِيِّ بْنِ يَزِيدَ بْنِ رُكَانَةَ ، قَالَ : كَانَ جَدِّي رُكَانَةُ بْنُ عَبْدِ يَزِيدَ " طَلَّقَ امْرَأَتَهُ الْبَتَّةَ ، فَأَتَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : " إِنِّي طَلَّقْتُ امْرَأَتِي الْبَتَّةَ ، فَقَالَ : مَا أَرَدْتَ ؟ ، فَقَالَ : أَرَدْتُ وَاحِدَةً ، قَالَ : آللَّهِ ؟ ، قَالَ : آللَّهِ ، قَالَ : فَهِيَ وَاحِدَةٌ " ، خَالَفَهُ إِسْحَاقُ بْنُ أَبِي إِسْرَائِيلَ.
محمد محی الدین

عبداللہ بن علی بیان کرتے ہیں: میرے دادا سیدنا رکانہ بن عبد یزید رضی اللہ عنہ نے اپنی اہلیہ کو طلاق بتا دی، وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کی: ”میں نے اپنی بیوی کو طلاق بتا دی ہے۔“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: ”(ان الفاظ کے ذریعے) تم نے کیا مراد لیا تھا؟“ انہوں نے عرض کی: ”میں نے ایک طلاق مراد لی تھی۔“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: ”کیا اللہ کی قسم؟“ انہوں نے عرض کی: ”اللہ کی قسم!“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پھر یہ ایک (طلاق شمار) ہو گی۔“ اسحاق بن اسرائیل نے اس کے برخلاف روایت نقل کی ہے (جو درج ذیل ہے)۔

حوالہ حدیث سنن الدارقطني /  كتاب الطلاق والخلع والإيلاء وغيره / حدیث: 3982
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف
تخریج حدیث «إسناده ضعيف ، وأخرجه ابن حبان فى ((صحيحه)) برقم: 4274، والحاكم فى ((مستدركه)) برقم: 2823، 2824، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 2206، 2208، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 1177، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 2051، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 3978، 3979، 3980، 3981، 3982، 3983، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 24471، وابن أبى شيبة فى ((مصنفه)) برقم: 18437، والطبراني فى((الكبير)) برقم: 4612»
«ضعيف مضطرب ، تحفة الأحوذي شرح سنن الترمذي: (2 / 209)»