سنن الدارقطني
كتاب الطلاق والخلع والإيلاء وغيره— طلاق اور لعان کا بیان
أَوَّلُ كِتَابِ الطَّلَاقِ وَغَيْرِهِ باب: طلاق، خلع، ایلاء، وغیرہ کے بارے میں روایات
نَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ مِرْدَاسٍ ، نَا أَبُو دَاوُدَ السِّجِسْتَانِيُّ ، نَا أَحْمَدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ السَّرْحِ ، وَأَبُو ثَوْرٍ إِبْرَاهِيمُ بْنُ خَالِدٍ ، وَآَخَرُونَ ، قَالُوا : نَا الشَّافِعِيُّ ، حَدَّثَنِي عَمِّي مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ شَافِعٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَلِيِّ بْنِ السَّائِبِ ، عَنْ نَافِعِ بْنِ عُجَيْرِ بْنِ عَبْدِ يَزِيدَ ، أَنَّ رُكَانَةَ بْنَ عَبْدِ يَزِيدَ " طَلَّقَ امْرَأَتَهُ سُهَيْمَةَ الْبَتَّةَ ، فَأُخْبِرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِذَلِكَ ، فَقَالَ : وَاللَّهِ مَا أَرَدْتُ إِلا وَاحِدَةً ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : وَاللَّهِ مَا أَرَدْتَ إِلا وَاحِدَةً ؟ ، فَقَالَ رُكَانَةُ : وَاللَّهِ مَا أَرَدْتُ إِلا وَاحِدَةً ، فَرَدَّهَا إِلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَطَلَّقَهَا الثَّانِيَةَ فِي زَمَانِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ ، وَالثَّالِثَةَ فِي زَمَانِ عُثْمَانَ " ، قَالَ أَبُو دَاوُدَ : وَهَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ .نافع بن عجیر بیان کرتے ہیں: سیدنا رکانہ بن یزید نے اپنی بیوی، سہیمہ، کو طلاق بتا دی، انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس بارے میں بتایا، انہوں نے عرض کی: ”یا رسول اللہ! میں نے اپنی بیوی، سہیمہ، کو طلاق بتا دی ہے، اللہ کی قسم! میں نے اس کے ذریعے صرف ایک طلاق دینے کا ارادہ کیا تھا۔“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا رکانہ رضی اللہ عنہ سے دریافت کیا: ”اللہ کی قسم! کیا تم نے صرف ایک ہی طلاق مراد لی تھی؟“ سیدنا رکانہ رضی اللہ عنہ نے عرض کی: ”اللہ کی قسم! میں نے صرف ایک ہی طلاق مراد لی تھی۔“ تو نبی نے اس خاتون کو واپس بھجوا دیا تھا۔ سیدنا رکانہ رضی اللہ عنہ نے اس خاتون کو دوسری طلاق سیدنا عمر اور تیسری طلاق سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے عہد خلافت میں دی تھی۔ امام داؤد کہتے ہیں: یہ حدیث صحیح ہے۔