سنن الدارقطني
كتاب الطلاق والخلع والإيلاء وغيره— طلاق اور لعان کا بیان
أَوَّلُ كِتَابِ الطَّلَاقِ وَغَيْرِهِ باب: طلاق، خلع، ایلاء، وغیرہ کے بارے میں روایات
نَا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ ، نَا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، أنا الشَّافِعِيُّ ، أنا عَمِّي مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ شَافِعٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَلِيِّ بْنِ السَّائِبِ ، عَنْ نَافِعِ بْنِ عُجَيْرِ بْنِ عَبْدِ يَزِيدَ ، أَنَّ رُكَانَةَ بْنَ عَبْدِ يَزِيدَ طَلَّقَ امْرَأَتَهُ سُهَيْمَةَ الْبَتَّةَ ، ثُمَّ أَتَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، " إِنِّي طَلَّقْتُ امْرَأَتِي سُهَيْمَةَ الْبَتَّةَ ، وَاللَّهِ مَا أَرَدْتُ إِلا وَاحِدَةً ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِرُكَانَةَ : وَاللَّهِ مَا أَرَدْتَ إِلا وَاحِدَةً ؟ ، فَقَالَ رُكَانَةُ : وَاللَّهِ مَا أَرَدْتُ إِلا وَاحِدَةً ، فَرَدَّهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَطَلَّقَهَا الثَّانِيَةَ فِي زَمَانِ عُمَرَ ، وَالثَّالِثَةَ فِي زَمَانِ عُثْمَانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا " .نافع بن عجیر بیان کرتے ہیں: سیدنا رکانہ بن عبد یزید رضی اللہ عنہ نے اپنی بیوی، سہیمہ، کو طلاق بتا دی، پھر وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے، انہوں نے عرض کی: ”یا رسول اللہ! میں نے اپنی بیوی، سہیمہ، کو طلاق بتا دی ہے، اللہ کی قسم! میں نے اس کے ذریعے صرف ایک طلاق دینے کا ارادہ کیا تھا۔“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا رکانہ رضی اللہ عنہ سے دریافت کیا: ”اللہ کی قسم! کیا تم نے صرف ایک ہی طلاق مراد لی تھی؟“ سیدنا رکانہ رضی اللہ عنہ نے عرض کی: ”اللہ کی قسم! میں نے صرف ایک ہی طلاق مراد لی تھی۔“ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس خاتون کو واپس بھجوا دیا تھا۔ سیدنا رکانہ رضی اللہ عنہ نے اس خاتون کو دوسری طلاق سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے عہد خلافت میں اور تیسری طلاق سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے عہد خلافت میں دی تھی۔