سنن الدارقطني
كتاب الطلاق والخلع والإيلاء وغيره— طلاق اور لعان کا بیان
أَوَّلُ كِتَابِ الطَّلَاقِ وَغَيْرِهِ باب: طلاق، خلع، ایلاء، وغیرہ کے بارے میں روایات
حدیث نمبر: 3971
نَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سُلَيْمَانَ بْنِ الأَشْعَثِ ، نَا عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ ، نَا الْوَلِيدُ ، عَنِ الأَوْزَاعِيِّ ، حَدَّثَنِي الزُّهْرِيُّ ، قَالَ : وَسَأَلْتُهُ أَيَّ أَزْوَاجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اسْتَعَاذَتْ مِنْهُ ؟ ، فَقَالَ : أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، " أَنَّ ابْنَةَ الْجَوْنِ الْكِلابِيَّةَ ، لَمَّا دَخَلَتْ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَدَنَا مِنْهَا ، فَقَالَتْ : أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْكَ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : عُذْتِ بِعَظِيمٍ الْحَقِي بِأَهْلِكِ " .محمد محی الدین
اوزاعی بیان کرتے ہیں: میں نے زہری سے دریافت کیا: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی کون سی زوجہ محترمہ نے آپ سے پناہ مانگی تھی؟ تو انہوں نے جواب دیا: عروہ بن زبیر نے مجھے سیدہ عائشہ کے حوالے سے یہ بات بتائی ہے کہ اس خاتون کا نام بنت جون کلابیہ تھا، جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس کے پاس تشریف لے گئے اور اس سے قریب ہوئے، تو وہ بولی: ”میں آپ سے اللہ کی پناہ مانگتی ہوں۔“ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم نے ایک عظیم (ذات کی) پناہ لے لی ہے، تم اپنے گھر والوں کے پاس چلی جاؤ۔“