سنن الدارقطني
كتاب الطلاق والخلع والإيلاء وغيره— طلاق اور لعان کا بیان
أَوَّلُ كِتَابِ الطَّلَاقِ وَغَيْرِهِ باب: طلاق، خلع، ایلاء، وغیرہ کے بارے میں روایات
نَا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ ، وَنا يُوسُفُ بْنُ سَعِيدٍ ، نَا حَجَّاجٌ ، نَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، قَالَ : وَحَدَّثَنِي ابْنُ شِهَابٍ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ فَاطِمَةَ بِنْتِ قَيْسٍ ، أَنَّهَا أَخْبَرَتْهُ " أَنَّهَا كَانَتْ عِنْدَ أَبِي عَمْرِو بْنِ حَفْصِ بْنِ الْمُغِيرَةِ ، فَطَلَّقَهَا آخِرَ ثَلاثِ تَطْلِيقَاتٍ ، فَزَعَمَتْ أَنَّهَا جَاءَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَاسْتَفْتَتْهُ فِي خُرُوجِهَا مِنْ بَيْتِهَا فَأَمَرَهَا أَنْ تَنْتَقِلَ إِلَى بَيْتِ ابْنِ أُمِّ مَكْتُومٍ ، فَأَبَى مَرْوَانُ إِلا أَنْ يَتَّهِمَ فَاطِمَةَ فِي خُرُوجِ الْمُطَلَّقَةِ مِنْ بَيْتِهَا وَزَعَمَ عُرْوَةُ ، أَنَّ عَائِشَةَ أَنْكَرَتْ ذَلِكَ عَلَى فَاطِمَةَ ، وَأَنَّ عَائِشَةَ كَانَتْ تَنْهَى الْمُطَلَّقَةَ أَنْ تَخْرُجَ مِنْ بَيْتِهَا ، حَتَّى تَنْقَضِيَ عِدَّتُهَا " .ابوسلمہ بن عبدالرحمن، سیدہ فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: وہ خاتون ابوعمرو بن حفص بن مغیرہ کی بیوی تھیں، انہوں نے اسے تیسری طلاق بھی دے دی، وہ خاتون نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئیں، تو آپ سے یہ مسئلہ دریافت کیا: کیا وہ اپنے گھر سے باہر نکل سکتی ہے (یعنی کسی دوسری جگہ منتقل ہو سکتی ہیں)؟ تو نبی نے اسے یہ ہدایت کی: ”وہ ابن ام مکتوم کے ہاں منتقل ہو جائے۔“ مروان نے اس بات کو تسلیم نہیں کیا کہ مطلقہ عورت اپنے گھر سے نکل سکتی ہے، اس نے سیدہ فاطمہ بنت قیس کے بیان کو معتبر تسلیم نہیں کیا۔ عروہ بیان کرتے ہیں: سیدہ عائشہ نے بھی فاطمہ بنت قیس کے بیان کو تسلیم نہیں کیا، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا مطلقہ عورت کو اس بات سے منع کرتی تھیں کہ وہ اپنے گھر سے نکلے، جب تک اس کی عدت پوری نہیں ہو جاتی۔