سنن الدارقطني
كتاب الطلاق والخلع والإيلاء وغيره— طلاق اور لعان کا بیان
أَوَّلُ كِتَابِ الطَّلَاقِ وَغَيْرِهِ باب: طلاق، خلع، ایلاء، وغیرہ کے بارے میں روایات
نَا نَا الْحَسَنُ بْنُ الْخَضِرِ ، بِمِصْرَ ، نَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ يُونُسَ أَبُو كُرَيْبٍ ، نَا حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ ، عَنْ أَشْعَثَ ، عَنِ الْحَكَمِ ، وَحَمَّادٍ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنِ الأَسْوَدِ ، عَنْ عُمَرَ ، قَالَ : " لا نَدَعُ كِتَابَ اللَّهِ وَسُنَّةَ نَبِيِّنَا لِقَوْلِ امْرَأَةٍ : الْمُطَلَّقَةُ ثَلاثًا لَهَا السُّكْنَى وَالنَّفَقَةُ " ، أَشْعَثُ بْنُ سَوَّارٍ ، ضَعِيفُ الْحَدِيثِ . وَرَوَاهُ الأَعْمَشُ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنِ الأَسْوَدِ وَلَمْ يَقُلْ : " وَسُنَّةَ نَبِيِّنَا " . وَقَدْ كَتَبْنَاهُ قَبْلَ هَذَا ، وَالأَعْمَشُ أَثْبَتُ مِنْ أَشْعَثَ ، وَأَحْفَظُ مِنْهُ .اسود، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: ”ہم اللہ کی کتاب اور اس کے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت (کا حکم) کسی عورت کے بیان کی وجہ سے ترک نہیں کریں گے، جس عورت کو تین طلاقیں دی گئی ہوں، اسے رہائش اور خرچ ملے گا۔“ اشعث بن سوار نامی راوی ضعیف ہے۔ اعمش نے ابراہیم کے حوالے سے اسود سے یہ روایت نقل کی ہے اور اس میں یہ الفاظ نقل نہیں کیے: ”اور ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت۔“ لیکن ہم یہ روایت اس سے پہلے نوٹ کر چکے ہیں: اعمش، اشعث کے مقابلے میں زیادہ ثبت اور زیادہ بڑے حافظ الحدیث ہیں۔