سنن الدارقطني
كتاب الطلاق والخلع والإيلاء وغيره— طلاق اور لعان کا بیان
أَوَّلُ كِتَابِ الطَّلَاقِ وَغَيْرِهِ باب: طلاق، خلع، ایلاء، وغیرہ کے بارے میں روایات
حدیث نمبر: 3963
نَا أَبُو أَحْمَدَ الْقَاسِمُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ بِلَيْلٍ الزَّعْفَرَانِيُّ ، نَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الشَّعْبِيُّ ، نَا الْقَاسِمُ بْنُ الْحَكَمِ ، نَا الْحَسَنُ بْنُ عُمَارَةَ ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْخَلِيلِ الْحَضْرَمِيُّ ، قَالَ : ذُكِرَ لِعُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ ، قَوْلُ فَاطِمَةَ بِنْتِ قَيْسٍ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " لَمْ يَجْعَلْ لَهَا السُّكْنَى وَلا النَّفَقَةَ ، فَقَالَ عُمَرُ : لا نَدَعُ كِتَابَ اللَّهِ وَسُنَّةَ نَبِيِّهِ لِقَوْلِ امْرَأَةٍ " ، الْحَسَنُ بْنُ عُمَارَةَ مَتْرُوكٌ.محمد محی الدین
عبداللہ بن خلیل حضرمی بیان کرتے ہیں: سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے سامنے سیدہ فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا کا یہ بیان ذکر کیا گیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں رہائش اور خرچ کا حق نہیں دیا تھا، تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”ہم اللہ کی کتاب اور اس کے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت (کا حکم) کسی عورت کے بیان کی وجہ سے ترک نہیں کریں گے۔“ حسن بن عمارہ نامی راوی متروک ہے۔