سنن الدارقطني
كتاب الطلاق والخلع والإيلاء وغيره— طلاق اور لعان کا بیان
أَوَّلُ كِتَابِ الطَّلَاقِ وَغَيْرِهِ باب: طلاق، خلع، ایلاء، وغیرہ کے بارے میں روایات
نَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ الْوَلِيدِ بْنِ بُرْدٍ ، نَا الْهَيْثَمُ بْنُ جَمِيلٍ ، نَا زُهَيْرٌ ، عَنْ جَابِرٍ ، عَنْ عَامِرٍ الشَّعْبِيِّ ، قَالَ : دَخَلْنَا عَلَى فَاطِمَةَ بِنْتِ قَيْسٍ ، فَقُلْنَا لَهَا : حَدِّثِينَا عَنْ قَضَاءِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيكِ ، قَالَتْ : " دَخَلْتُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَمَعِي أَخُو زَوْجِي ، فَقُلْتُ : إِنَّ زَوْجِي طَلَّقَنِي ، وَإِنَّ هَذَا يَزْعُمُ أَنْ لَيْسَ لِي سُكْنَى وَلا نَفَقَةٌ ، فَقَالَ : بَلْ لَكِ سُكْنَى وَلَكِ نَفَقَةٌ ، قَالَ : إِنَّ زَوْجَهَا طَلَّقَهَا ثَلاثًا ، فَقَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِنَّمَا السُّكْنَى وَالنَّفَقَةُ عَلَى مَنْ لَهُ عَلَيْهَا رَجْعَةٌ " فَلَمَّا قَدِمْتُ الْكُوفَةَ طَلَبَنِي الأَسْوَدُ بْنُ يَزِيدَ يَسْأَلُنِي عَنْ ذَلِكَ ، وَأَنَّ أَصْحَابَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ لَيَقُولُونَ : لَهَا السُّكْنَى وَالنَّفَقَةُ ".عامر شعبی بیان کرتے ہیں: ہم سیدہ فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا کی خدمت میں حاضر ہوئے، ہم نے ان سے کہا: آپ ہمیں وہ حدیث سنائیں، جس میں آپ کے بارے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے فیصلہ کا ذکر ہے، تو سیدہ فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا نے بتایا: میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی، میرے ساتھ میرا دیور بھی تھا، میں نے عرض کی: ”میرے شوہر نے مجھے طلاق دے دی ہے اور اس (یعنی میرے دیور) کا یہ کہنا ہے کہ مجھے رہائش اور خرچ نہیں ملے گا۔“ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمہیں رہائش اور خرچ ملے گا۔“ (اس کے دیور) نے عرض کی: ”اس کے شوہر نے اسے تین طلاقیں دی ہیں۔“ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”رہائش اور خرچ اس عورت کو ملتا ہے، جس کے شوہر کو اس سے رجوع کرنے کا اختیار ہو۔“ شعبی بیان کرتے ہیں: جب میں کوفہ آیا، تو اسود بن یزید نے مجھے بلایا، تاکہ اس بارے میں مجھ سے دریافت کریں، سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے شاگرد یہ فرماتے ہیں: ایسی عورت کو رہائش اور خرچ ملے گا۔