سنن الدارقطني
كتاب الطهارة— پاکی کا بیان
بَابٌ فِي وُجُوبِ الْغُسْلِ بِالْتِقَاءِ الْخِتَانَيْنِ وَإِنْ لَمْ يُنْزِلْ باب: : شرمگاہوں کے مل جانے سے غسل واجب ہوجاتا ہے، اگرچہ انزال نہ ہوا ہو
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَحْمَدَ الْحَنَّاطُ ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ أَبِي إِسْرَائِيلَ ، نا الْمُتَوَكِّلُ بْنُ فُضَيْلٍ أَبُو أَيُّوبَ الْحَدَّادُ بَصْرِيُّ ، عَنْ أَبِي ظِلالٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : " صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلاةَ الصُّبْحِ وَقَدِ اغْتَسَلَ مِنْ جَنَابَةٍ فَكَانَ نُكْتَةٌ مثل الدِّرْهَمِ يَابِسٌ لَمْ يُصِبْهُ الْمَاءُ ، فَقِيلَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّ هَذَا الْمَوْضِعَ لَمْ يُصِبْهُ الْمَاءُ فَسَلَتَ شَعْرَهُ مِنَ الْمَاءِ وَمَسَحَهُ بِهِ وَلَمْ يُعِدِ الصَّلاةَ " . الْمُتَوَكِّلُ بْنُ فُضَيْلٍ ، ضَعِيفٌ . وَرُوِيَ عَنْ عَطَاءِ بْنِ عَجْلانَ ، وَهُوَ مَتْرُوكُ الْحَدِيثِ ، عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ.سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے صبح کی نماز ادا کی۔ آپ نے غسل جنابت کیا ہوا تھا، آپ کے جسم مبارک پر ایک ورمہ جتنا حصہ خشک رہ گیا تھا جہاں تک پانی نہیں پہنچا تھا۔ عرض کی گئی: ”یا رسول اللہ! اس جگہ تک پانی نہیں پہنچا۔“ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے بالوں میں سے پانی کو اس جگہ ٹپکایا اور وہاں ہاتھ پھیر لیا، آپ نے نماز از سر نو ادا نہیں کی۔ اس روایت کا راوی متوکل بن فضیل ضعیف ہے۔ یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ منقول ہے، جس کا ایک راوی متروک الحدیث ہے۔