سنن الدارقطني
كتاب الطلاق والخلع والإيلاء وغيره— طلاق اور لعان کا بیان
أَوَّلُ كِتَابِ الطَّلَاقِ وَغَيْرِهِ باب: طلاق، خلع، ایلاء، وغیرہ کے بارے میں روایات
نَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَعِيدٍ ، نَا أَحْمَدُ بْنُ يَحْيَى الصُّوفِيُّ ، نَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي أُمَيَّةَ الْقُرَشِيُّ ، نَا عُثْمَانُ بْنُ مَطَرٍ ، عَنْ عَبْدِ الْغَفُورِ ، عَنْ أَبِي هَاشِمٍ ، عَنْ زَاذَانَ ، عَنْ عَلِيٍّ ، قَالَ : سَمِعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " رَجُلا طَلَّقَ الْبَتَّةَ فَغَضِبَ ، وَقَالَ : تَتَّخِذُونَ آيَاتِ اللَّهِ هُزُوًا ، أَوْ دِينَ اللَّهِ هُزُوًا وَلَعِبًا ، مَنْ طَلَّقَ الْبَتَّةَ أَلْزَمْنَاهُ ثَلاثًا ، لا تَحِلُّ لَهُ حَتَّى تَنْكِحَ زَوْجًا غَيْرَهُ " ، إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي أُمَيَّةَ ، هَذَا كُوفِيُّ ضَعِيفُ الْحَدِيثِ.سیدنا علی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو (یا ایک شخص کے بارے میں) سنا، اس نے اپنی بیوی کو طلاق بتا دی، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم غصہ میں آگئے، آپ نے فرمایا: ”تم لوگ اللہ کی آیات کا مذاق اڑاتے ہو (راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں) اللہ کے دین (کے احکام) سے کھیل کود کرتے ہو، جو شخص طلاق بتا دے گا، ہم اس کی تین طلاقوں کو لازم قرار دیں گے اور وہ عورت اس شخص کے لیے اس وقت تک حلال نہ ہو گی، جب تک دوسری شادی (کرنے کے بعد بیوہ یا مطلقہ) نہ ہو جائے۔“ اسماعیل بن ابوامیہ نامی راوی کوفی ہیں اور ضعیف الحدیث ہیں۔