سنن الدارقطني
كتاب الطلاق والخلع والإيلاء وغيره— طلاق اور لعان کا بیان
أَوَّلُ كِتَابِ الطَّلَاقِ وَغَيْرِهِ باب: طلاق، خلع، ایلاء، وغیرہ کے بارے میں روایات
نَا أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ صَاعِدٍ ، نَا يَحْيَى بْنُ عَبْدِ الْبَاقِي الأَذَنِيُّ . ح وَنا عُثْمَانُ بْنُ أَحْمَدَ الدَّقَّاقُ ، نَا يَحْيَى بْنُ عَبْدِ الْبَاقِي الأَذَنِيُّ ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْقَاسِمِ الصَّنْعَانِيُّ ، نَا عَمْرُو بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ فَلاحٍ الصَّنْعَانِيُّ ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْوَلِيدِ الْوَصَّافِيِّ ، وَصَدَقَةَ بْنِ أَبِي عِمْرَانَ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، قَالَ : طَلَّقَ بَعْضُ آبَائِي امْرَأَتَهُ أَلْفًا ، فَانْطَلَقَ بَنُوهُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، " إِنَّ أَبَانَا طَلَّقَ أُمَّنَا أَلْفًا ، فَهَلْ لَهُ مِنْ مَخْرَجٍ ؟ فَقَالَ : إِنَّ أَبَاكُمْ لَمْ يَتَّقِ اللَّهَ فَيَجْعَلْ لَهُ مِنْ أَمْرِهِ مَخْرَجًا ، بَانَتْ مِنْهُ بِثَلاثٍ عَلَى غَيْرِ السُّنَّةِ ، وَتِسْعُمِائَةٌ وَسَبْعَةٌ وَتِسْعُونَ إِثْمٌ فِي عُنُقِهِ " ، رُوَاتُهُ مَجْهُولُونَ وَضُعَفَاءُ ، إِلا شَيْخُنَا ، وَابْنُ عَبْدِ الْبَاقِي.ابراہیم بن عبیداللہ اپنے والد کے حوالے سے اپنے دادا کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: ان کے بزرگوں میں سے کسی شخص نے اپنی بیوی کو ایک ہزار طلاقیں دے دیں، اس کے بچے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے، انہوں نے عرض کی: ”یا رسول اللہ! ہمارے والد نے ہماری والدہ کو ایک ہزار طلاقیں دے دی ہیں، کیا ان کے لیے کوئی گنجائش ہے؟“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”تمہارا باپ اللہ سے ڈرا نہیں ہے، ورنہ وہ اس کے لیے کوئی گنجائش پیدا کر دیتا، وہ عورت اس شخص سے تین طلاقوں کی وجہ سے جدا ہو جائے گی، جو طلاقیں سنت کے خلاف ہیں اور (بقیہ) نو سو ستانوے طلاقیں اس کی گردن میں گناہ کے طور پر ہوں گی۔“ (امام دارقطنی رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں) ہمارے استاد ابن عبدالباقی (ان دو حضرات کے علاوہ) اس روایت کے تمام راوی مجہول اور ضعیف ہیں۔