حدیث نمبر: 3942
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ الْمَارَسْتَانِيُّ ، نَا الْقَاسِمُ بْنُ سَعِيدٍ ، نَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ قَيْسٍ ، نَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ سَعِيدٍ الْقَيْسِيُّ ، نَا عَمْرُو بْنُ خَالِدٍ ، نَا زَيْدُ بْنُ عَلِيٍّ ، عَنْ آبَائِهِ أَنَّ رَجُلا أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، " إِنَّ أُمِّي عَرَضَتْ عَلَيَّ قَرَابَةً لِي أَتَزَوَّجُهَا ، فَقُلْتُ : هِيَ طَالِقٌ ثَلاثًا إِنْ تَزَوَّجْتُهَا ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : هَلْ كَانَ قَبْلَ ذَلِكَ مِنْ مِلْكٍ ؟ ، قَالَ : لا ، قَالَ : لا بَأْسَ فَتَزَوَّجْهَا " .
محمد محی الدین

امام زید بن علی رضی اللہ عنہ اپنے آباء و اجداد کے حوالے سے نقل کرتے ہیں: ایک شخص نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، اس نے عرض کی: ”یا رسول اللہ! میری والدہ نے میرے سامنے اپنی ایک رشتہ دار لڑکی کا ذکر کیا کہ میں اس کے ساتھ شادی کر لوں، تو میں نے کہا: اگر میں نے اس عورت سے شادی کر لی، تو اسے تین طلاقیں ہیں، (اب کیا حکم ہو گا؟)“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا وہ اس سے پہلے آپ کی ملکیت میں تھی؟“ اس نے عرض کیا: ”جی نہیں۔“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پھر کوئی حرج نہیں ہے۔“ راوی بیان کرتے ہیں: پھر اس شخص نے اس عورت کے ساتھ شادی کر لی۔

حوالہ حدیث سنن الدارقطني /  كتاب الطلاق والخلع والإيلاء وغيره / حدیث: 3942
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف
تخریج حدیث «إسناده ضعيف ، وأخرجه الدارقطني فى ((سننه)) برقم: 3942 ، انفرد به المصنف من هذا الطريق»
«قال ابن حجر: إسناده ضعيف ، التلخيص الحبير في تخريج أحاديث الرافعي الكبير: (3 / 428)»