حدیث نمبر: 394
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ ، نا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ وَهْبٍ ، نا عَمِّي ، حَدَّثَنِي عِيَاضُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، وَابْنُ لَهِيعَةَ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ : أَخْبَرَتْنِي أُمُّ كُلْثُومٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، " أَنَّ رَجُلا سَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الرَّجُلِ يُجَامِعُ أَهْلَهُ ثُمَّ يَكْسَلُ ، هَلْ عَلَيْهِ غُسْلٌ ؟ وَعَائِشَةُ جَالِسَةٌ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِنِّي لأَفْعَلُ ذَلِكَ أَنَا وَهَذِهِ ثُمَّ نَغْتَسِلُ " .
محمد محی الدین

سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ام کلثوم رضی اللہ عنہا نے مجھے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے حوالے سے یہ بات بتائی ہے، ایک شخص نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ایسے شخص کے بارے میں دریافت کیا جو اپنی بیوی کے ساتھ صحبت کرتا ہے اور پھر انزال ہونے سے پہلے (صحبت ختم کر دیتا ہے)، ”کیا اس پر غسل کرنا لازم ہو گا؟“ تو اس وقت سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بھی وہاں بیٹھی ہوئی تھیں تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ ارشاد فرمایا: ”میں اور یہ (یعنی سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا) بعض اوقات اس طرح بھی کر لیتے ہیں لیکن پھر ہم غسل کرتے ہیں۔“

حوالہ حدیث سنن الدارقطني / كتاب الطهارة / حدیث: 394
تخریج حدیث «أخرجه مسلم فى ((صحيحه)) برقم: 348، 349، 350، ومالك فى ((الموطأ)) برقم: 143، 144، 145، وابن خزيمة فى ((صحيحه)) برقم: 227، وابن حبان فى ((صحيحه)) برقم: 1175، ، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 108، 109، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 608، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 392، 393، 394، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 24843»