سنن الدارقطني
كتاب الطلاق والخلع والإيلاء وغيره— طلاق اور لعان کا بیان
أَوَّلُ كِتَابِ الطَّلَاقِ وَغَيْرِهِ باب: طلاق، خلع، ایلاء، وغیرہ کے بارے میں روایات
نَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَعِيدٍ ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ بْنِ عُتْبَةَ ، نَا مَعْمَرُ بْنُ بَكَّارٍ ، نَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : " بَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَبَا سُفْيَانَ عَلَى نَجْرَانَ الْيَمَنِ عَلَى صَلاتِهَا وَحَرْبِهَا وَصَدَقَاتِهَا ، وَبَعَثَ مَعَهُ رَاشِدَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، وَكَانَ إِذَا ذَكَرَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : رَاشِدٌ خَيْرٌ مِنْ سُلَيْمٍ ، وَأَبُو سُفْيَانَ خَيْرٌ مِنْ عُرَيْنَةَ ، فَكَانَ فِيمَا عَهَدَ إِلَى أَبِي سُفْيَانَ أَوْصَاهُ بِتَقْوَى اللَّهِ ، وَقَالَ : لا يُطَلِّقُ رَجُلٌ مَا لا يَنْكِحُ ، وَلا يُعْتِقُ مَا لا يَمْلِكُ ، وَلا نَذْرَ فِي مَعْصِيَةِ اللَّهِ " .سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ابوسفیان کو یمن کے شہر نجران بھیجا، تاکہ وہ وہاں نماز پڑھائیں، جنگ کریں، صدقات وصول کریں، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے ساتھ راشد بن عبداللہ کو بھی بھیجا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب ان کا ذکر کرتے تھے، یہ فرماتے تھے: ”راشد، پورے سلیم قبیلہ سے بہتر ہے اور ابوسفیان پورے عرینہ قبیلے سے بہتر ہے۔“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ابوسفیان کو جو تلقین کی تھی، اس میں انہیں اللہ کا تقویٰ اختیار کرنے کی تلقین کی اور یہ ہدایت کی: ”کوئی شخص اسے طلاق نہیں دے سکتا، جس کے ساتھ اس کا نکاح نہ ہوا ہو، اور کوئی شخص اسے آزاد نہیں کر سکتا، جس کا وہ مالک نہ ہو، اور اللہ کی نافرمانی کے بارے میں نذر کی کوئی حیثیت نہیں ہے۔“