سنن الدارقطني
كتاب الطلاق والخلع والإيلاء وغيره— طلاق اور لعان کا بیان
أَوَّلُ كِتَابِ الطَّلَاقِ وَغَيْرِهِ باب: طلاق، خلع، ایلاء، وغیرہ کے بارے میں روایات
حدیث نمبر: 3934
نَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، نَا يُوسُفُ بْنُ مُوسَى ، نَا أَبُو أُسَامَةَ ، نَا الْوَلِيدُ بْنُ كَثِيرٍ ، حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْحَارِثِ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " مَنْ يُطَلِّقُ مَا لا يَمْلِكُ فَلا طَلاقَ لَهُ ، وَمَنْ أَعْتَقَ مَا لا يَمْلِكُ فَلا عَتَاقَ لَهُ ، وَمَنْ نَذَرَ فِيمَا لا يَمْلِكُ فَلا نَذْرَ لَهُ ، وَمَنْ حَلَفَ عَلَى مَعْصِيَةٍ فَلا يَمِينَ لَهُ ، وَمَنْ حَلَفَ عَلَى قَطِيعَةِ رَحِمٍ فَلا يَمِينَ لَهُ " .محمد محی الدین
عمرو بن شعیب اپنے والد کے حوالے سے اپنے دادا کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”جو شخص ایسی طلاق دے، جس کا وہ مالک نہ ہو، تو وہ طلاق نہیں ہو گی، جو شخص اسے آزاد کرے، جس کا وہ مالک نہ ہو، تو وہ آزاد نہیں ہو گا، جو شخص اس چیز کے بارے میں نذر مانے، جس کا وہ مالک نہیں ہے، تو اس کی نذر (معتبر) نہیں ہو گی، اور جو شخص کسی گناہ کے بارے میں قسم اٹھائے، اس کی قسم کا اعتبار نہیں ہو گا، اور جو شخص قطع رحمی کے بارے میں قسم اٹھائے، اس کی قسم کا اعتبار نہیں ہو گا۔“