سنن الدارقطني
كتاب الطلاق والخلع والإيلاء وغيره— طلاق اور لعان کا بیان
أَوَّلُ كِتَابِ الطَّلَاقِ وَغَيْرِهِ باب: طلاق، خلع، ایلاء، وغیرہ کے بارے میں روایات
حدیث نمبر: 3928
قَالَ : وَنا قَالَ : وَنا ابْنُ الْمُبَارَكِ ، أنا سُفْيَانُ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، قَالَ : جَاءَ رَجُلٌ إِلَى ابْنِ عَبَّاسٍ ، فَقَالَ : " إِنِّي طَلَّقْتُ امْرَأَتِي أَلْفًا ، قَالَ : أَمَّا ثَلاثٌ فَتُحَرِّمُ عَلَيْكَ امْرَأَتَكَ ، وَبَقِيَّتُهُنَّ وِزْرٌ اتَّخَذْتَ آيَاتِ اللَّهِ هُزُوًا " ، .محمد محی الدین
سعید بن جبیر بیان کرتے ہیں: ایک شخص سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کی خدمت میں حاضر ہوا اور بولا: ”میں نے اپنی بیوی کو ایک ہزار طلاقیں دے دی ہیں۔“ تو سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: ”تین طلاقوں کی وجہ سے تمہاری بیوی تم پر حرام ہو گئی ہے، اور بقیہ طلاقیں تمہارے لیے گناہ بن گئی ہیں، کیونکہ تم نے اللہ کی آیات کا مذاق اڑایا ہے۔“