حدیث نمبر: 3927
نَا نَا دَعْلَجٌ ، نَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، نَا حَبَّانُ ، نَا ابْنُ الْمُبَارَكِ ، أنا سَيْفٌ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، قَالَ : جَاءَ رَجُلٌ مِنْ قُرَيْشٍ إِلَى ابْنِ عَبَّاسٍ ، فَقَالَ : يَا أَبَا عَبَّاسٍ ، " إِنِّي طَلَّقْتُ امْرَأَتِي ثَلاثًا وَأَنَا غَضْبَانُ ، فَقَالَ : إِنَّ أَبَا عَبَّاسٍ لا يَسْتَطِيعُ أَنْ يَحِلَّ لَكَ مَا حُرِّمَ عَلَيْكَ عَصَيْتَ رَبَّكَ وَحُرِّمَتْ عَلَيْكَ امْرَأَتُكَ ، إِنَّكَ لَمْ تَتَّقِ اللَّهَ فَيَجْعَلْ لَكَ مَخْرَجًا ، ثُمَّ قَرَأَ إِذَا طَلَّقْتُمُ النِّسَاءَ فَطَلِّقُوهُنَّ لِعِدَّتِهِنَّ سورة الطلاق آية 1 طَاهِرًا عَنْ غَيْرِ جِمَاعٍ " ، قَالَ سَيْفٌ : وَلَيْسَ طَاهِرًا عَنْ غَيْرِ جِمَاعٍ فِي التِّلاوَةِ ، وَلَكِنَّهُ تَفْسِيرُهُ.
محمد محی الدین

مجاہد رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں: ایک قریشی سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کی خدمت میں حاضر ہوا اور بولا: اے ابوعباس! میں نے غصے کے عالم میں اپنی بیوی کو تین طلاقیں دے دی ہیں۔ تو سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: جو چیز تمہارے لیے حرام ہو گئی ہے، ابوعباس اسے تمہارے لیے حلال نہیں کر سکتا۔ تم نے اپنے پروردگار کی نافرمانی کی اور اپنی بیوی کو اپنے اوپر حرام کر لیا۔ تم اللہ سے ڈرے نہیں، ورنہ وہ تمہارے لیے کوئی گنجائش پیدا کر دیتا۔ پھر سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے یہ آیت تلاوت کی: ”اور جب تم خواتین کو طلاق دینی ہو، تو انہیں طلاق دو۔“ یعنی ان کی عدت سے پہلے جب وہ طہر کی حالت میں ہوں اور ان کے ساتھ صحبت نہ کی گئی ہو۔ سیف نامی راوی نے یہ بات بیان کی ہے: یہ (مذکورہ جملہ) تلاوت کا حصہ نہیں ہے بلکہ (قرآن کے الفاظ) کی وضاحت ہے۔

حوالہ حدیث سنن الدارقطني /  كتاب الطلاق والخلع والإيلاء وغيره / حدیث: 3927
تخریج حدیث «أخرجه الضياء المقدسي فى "الأحاديث المختارة"، 113، 114، 115، 116، والنسائي فى ((المجتبیٰ)) برقم: 3395، والنسائي فى ((الكبریٰ)) برقم: 5556، 11538، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 2197، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 3924، 3925، 3926، 3927، 3928، 3929، 4034، 4035، 4036، وابن أبى شيبة فى ((مصنفه)) برقم: 18024، 18102، 18103»