سنن الدارقطني
كتاب الطلاق والخلع والإيلاء وغيره— طلاق اور لعان کا بیان
أَوَّلُ كِتَابِ الطَّلَاقِ وَغَيْرِهِ باب: طلاق، خلع، ایلاء، وغیرہ کے بارے میں روایات
حدیث نمبر: 3925
نَا نَا أَبُو بَكْرٍ ، نَا أَبُو حُمَيْدٍ الْمِصِّيصِيُّ ، نَا حَجَّاجٌ ، نَا شُعْبَةُ ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ مُرَّةَ ، قَالَ : سَمِعْتُ مَاهَانَ يَسْأَلُ سَعِيدَ بْنَ جُبَيْرٍ ، عَنْ رَجُلٍ " طَلَّقَ امْرَأَتَهُ ثَلاثًا ، فَقَالَ سَعِيدٌ : سُئِلَ ابْنُ عَبَّاسٍ عَنْ رَجُلٍ طَلَّقَ امْرَأَتَهُ مِائَةً ، فَقَالَ : ثَلاثٌ تُحَرِّمُ عَلَيْكَ امْرَأَتَكَ ، وَسَائِرُهُنَّ وِزْرٌ ، اتَّخَذْتَ آيَاتِ اللَّهِ هُزُوًا " .محمد محی الدین
عمرو بن مرہ بیان کرتے ہیں: میں نے ماہان کو سعید بن جبیر سے ایسے شخص کے بارے میں دریافت کرتے ہوئے سنا، جو اپنی بیوی کو تین طلاقیں دے دیتا ہے، تو سعید نے بتایا: سیدنا عبداللہ بن عباس سے ایسے شخص کے بارے میں دریافت کیا گیا، جو اپنی بیوی کو ایک سو طلاقیں دے دیتا ہے، تو سیدنا عبداللہ نے فرمایا: ”تین طلاقوں کے ذریعہ تمہاری بیوی تمہارے لیے حرام ہو جائے گی اور بقیہ (تمہارے لیے) بوجھ بن جائیں گی، کیونکہ تم نے اللہ کی آیات کا مذاق اڑایا ہے۔“