سنن الدارقطني
كتاب الطلاق والخلع والإيلاء وغيره— طلاق اور لعان کا بیان
أَوَّلُ كِتَابِ الطَّلَاقِ وَغَيْرِهِ باب: طلاق، خلع، ایلاء، وغیرہ کے بارے میں روایات
حدیث نمبر: 3917
نَا أَبُو عُبَيْدٍ الْقَاسِمُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ زَنْجُوَيْهِ ، نَا نُعَيْمُ بْنُ حَمَّادٍ ، عَنِ ابْنِ الْمُبَارَكِ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ رَاشِدٍ ، نَا سَلَمَةُ بْنُ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّهُ ذَكَرَ عِنْدَهُ أَنَّ الطَّلاقَ الثَّلاثَ بِمَرَّةٍ مَكْرُوهٌ ، فَقَالَ : طَلَّقَ حَفْصُ بْنُ عَمْرِو بْنِ الْمُغِيرَةِ ، فَاطِمَةَ بِنْتَ قَيْسٍ بِكَلِمَةٍ وَاحِدَةٍ ثَلاثًا ، فَلَمْ يَبْلُغْنَا أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَابَ ذَلِكَ عَلَيْهِ ، وَطَلَّقَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ امْرَأَتَهُ ثَلاثًا فَلَمْ يَعِبْ ذَلِكَ عَلَيْهِ أَحَدٌ " .محمد محی الدین
سلمہ بن ابوسلمہ اپنے والد کے بارے میں بیان کرتے ہیں: ان کے سامنے یہ بات ذکر کی گئی کہ ایک ساتھ تین طلاقیں دینا مکروہ ہے، تو انہوں نے فرمایا: ”حفص بن عمرو بن مغیرہ نے فاطمہ بنت قیس کو ایک ہی کلمہ کے ذریعہ تین طلاقیں دے دی تھیں، تو ہمیں ایسی کوئی اطلاع نہیں ملی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس حوالے سے ان پر کوئی اعتراض کیا ہو، اسی طرح سیدنا عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ نے بھی اپنی اہلیہ کو (ایک ساتھ) تین طلاقیں دے دی تھیں، لیکن ان پر بھی کسی نے کوئی اعتراض نہیں کیا۔“