سنن الدارقطني
كتاب الطلاق والخلع والإيلاء وغيره— طلاق اور لعان کا بیان
أَوَّلُ كِتَابِ الطَّلَاقِ وَغَيْرِهِ باب: طلاق، خلع، ایلاء، وغیرہ کے بارے میں روایات
حدیث نمبر: 3914
نَا أَبُو بَكْرٍ ، نَا أَحْمَدُ بْنُ يُوسُفَ السُّلَمِيُّ ، نَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى ، أنا إِسْرَائِيلُ ، عَنْ جَابِرٍ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ طَلَّقَ امْرَأَتَهُ وَاحِدَةً ، " فَأَمَرَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُمْسِكَهَا حَتَّى تَطْهُرَ ، فَإِنْ شَاءَ طَلَّقَ ، وَإِنْ شَاءَ أَمْسَكَ " ، لَمْ يَذْكُرْ عُمَرَ .محمد محی الدین
نافع بیان کرتے ہیں: سیدنا عبداللہ بن عمر نے اپنی اہلیہ کو ایک طلاق دی، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں یہ ہدایت کی: ”وہ اس عورت کو اس وقت تک اپنے پاس رکھے، جب تک وہ پاک نہ ہو جائے، پھر اگر وہ چاہے، تو اسے طلاق دے دے، اگر چاہے، تو اسے اپنے ساتھ رہنے دے۔“ راوی نے اس روایت میں سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کا ذکر نہیں کیا۔