حدیث نمبر: 3910
نَا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ ، نَا أَبُو الأَزْهَرِ ، نَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ ، نَا أَبِي ، عَنْ صَالِحٍ ، نَا نَافِعٌ ، أَنَّ ابْنَ عُمَرَ " طَلَّقَ امْرَأَتَهُ وَهِيَ حَائِضٌ فَذَهَبَ عُمَرُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبَرَهُ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : لِيُرَاجِعْهَا ثُمَّ لِيَتْرُكْهَا حَتَّى تَطْهُرَ ، ثُمَّ لِيُمْسِكْهَا حَتَّى تَحِيضَ ، ثُمَّ لِيَتْرُكْهَا حَتَّى تَطْهُرَ ، فَإِذَا طَهُرَتْ فَلْيُطَلِّقْهَا قَبْلَ أَنْ يَمَسَّهَا ، وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : فَتِلْكَ الْعِدَّةُ الَّتِي أَمَرَ اللَّهُ بِهَا لِلنِّسَاءِ أَنْ يُطَلَّقْنَ لَهَا " ،.
محمد محی الدین

نافع بیان کرتے ہیں: سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے اپنی اہلیہ کو طلاق دے دی، وہ خاتون اس وقت حیض کی حالت میں تھی، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے، آپ کو اس بارے میں بتایا، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے اس عورت سے رجوع کر لینا چاہیے اور پھر اسے یوں ہی رہنے دیا جائے، یہاں تک کہ وہ پاک ہو جائے، پھر اسے یوں ہی رہنے دو، یہاں تک کہ اسے پھر حیض آ جائے، پھر اسے یوں ہی رہنے دو، یہاں تک کہ وہ پاک ہو جائے، جب وہ پاک ہو جائے، تو اس کے ساتھ صحبت کرنے سے پہلے اسے طلاق دے دے۔“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”یہ وہ طریقہ ہے، جس کے بارے میں اللہ نے یہ حکم دیا ہے، خواتین کو اس کے مطابق طلاق دی جائے۔“

حوالہ حدیث سنن الدارقطني /  كتاب الطلاق والخلع والإيلاء وغيره / حدیث: 3910
تخریج حدیث «أخرجه البخاري فى ((صحيحه)) برقم: 4908، 5251، 5252، 5253، 5258، 5332، 5333، 7160، ومسلم فى ((صحيحه)) برقم: 1471، 1471،ومالك فى ((الموطأ)) برقم: 1139 ، وابن حبان فى ((صحيحه)) برقم: 4263، والحاكم فى ((مستدركه)) برقم: 3008، والنسائي فى ((المجتبیٰ)) برقم: 3391 ، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 2179، 2181، 2182، 2183، 2184، 2185، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 1175، 1176، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 3893، 3894، 3895، 3896، 3897، 3899، 3900، 3901، 3902، 3903، 3904، 3905، 3906، 3907، 3908، 3909، 3910، 3911، 3912، 3913، 3914، 3915، 3916، 3918، 3919، 3966، 3967، 3968، 3969، 3974، 3975، 4022، 4023، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 310، وابن أبى شيبة فى ((مصنفه)) برقم: 18027، 18028»