سنن الدارقطني
كتاب الطلاق والخلع والإيلاء وغيره— طلاق اور لعان کا بیان
أَوَّلُ كِتَابِ الطَّلَاقِ وَغَيْرِهِ باب: طلاق، خلع، ایلاء، وغیرہ کے بارے میں روایات
حدیث نمبر: 3909
نَا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ غَالِبٍ الأَنْطَاكِيُّ ، نَا سَعِيدُ بْنُ مَسْلَمَةَ ، نَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أُمَيَّةَ ، عَنْ نَافِعٍ ، أَنَّ ابْنَ عُمَرَ " طَلَّقَ امْرَأَتَهُ وَهِيَ حَائِضٌ تَطْلِيقَةً ، فَاسْتَفْتَى عُمَرُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَمَرَهُ ، أَنْ يُرَاجِعَهَا ، ثُمَّ يُمْسِكَ حَتَّى تَطْهُرَ ، ثُمَّ تَحِيضَ حَيْضَةً أُخْرَى ، ثُمَّ يُمْهِلَهَا حَتَّى تَطْهُرَ مِنْ قَبْلِ أَنْ يُجَامِعَهَا ، فَتِلْكَ الْعِدَّةُ الَّتِي أَمَرَ اللَّهُ أَنْ تُطَلَّقَ لَهَا النِّسَاءُ " .محمد محی الدین
نافع بیان کرتے ہیں: سیدنا عبداللہ بن عمر نے اپنی اہلیہ کو، جب وہ حیض کی حالت میں تھی، ایک طلاق دے دی، سیدنا عمر نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ مسئلہ دریافت کیا، تو نبی نے انہیں یہ ہدایت کی: ”وہ اس عورت سے رجوع کر لے اور اس وقت تک اسے روکے رکھے، جب تک وہ پاک ہونے کے بعد دوبارہ حائضہ نہیں ہو جاتی، پھر مزید انتظار کرے، جب وہ پاک ہو جائے، تو اس کے ساتھ صحبت کرنے سے پہلے (اسے طلاق دے)، یہ وہ طریقہ ہے، جس کے بارے میں اللہ نے یہ حکم دیا ہے، اس کے مطابق عورتوں کو طلاق دی جائے۔“