سنن الدارقطني
كتاب الطلاق والخلع والإيلاء وغيره— طلاق اور لعان کا بیان
أَوَّلُ كِتَابِ الطَّلَاقِ وَغَيْرِهِ باب: طلاق، خلع، ایلاء، وغیرہ کے بارے میں روایات
نَا أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ صَاعِدٍ ، نَا مُؤَمَّلُ بْنُ هِشَامٍ الْيَشْكُرِيُّ ، وَيَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالا : نَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عُلَيَّةَ ، نَا أَيُّوبُ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ ، قَالَ : مَكَثْتُ عِشْرِينَ سَنَةً فَحَدَّثَنِي مَنْ لا أَتَّهِمُ ، أَنَّ ابْنَ عُمَرَ ، " طَلَّقَ امْرَأَتَهُ وَهِيَ حَائِضٌ ثَلاثًا ، فَأُمِرَ أَنْ يُرَاجِعَهَا " ، فَجَعَلْتُ لا أَتَّهِمُهُمْ وَلا أَعْرِفُ الْحَدِيثَ حَتَّى لَقِيتُ أَبَا عَلابٍ يُونُسَ بْنَ جُبَيْرٍ الْبَاهِلِيَّ ، وَكَانَ ذَا ثَبْتٍ فَحَدَّثَنِي ، أَنَّهُ سَأَلَ ابْنَ عُمَرَ فَحَدَّثَهُ أَنَّهُ طَلَّقَهَا وَاحِدَةً وَهِيَ حَائِضٌ ، " فَأُمِرَ أَنْ يُرَاجِعَهَا " ، قَالَ : فَقُلْتُ لَهُ : " أَفَحُسِبَتْ عَلَيْهِ ؟ " ، قَالَ : " فَمَهْ وَإِنْ عَجَزَ ".محمد بن سیرین بیان کرتے ہیں: بیس سال پہلے مجھے ایک مستند راوی نے یہ حدیث سنائی: سیدنا عبداللہ بن عمر نے اپنی بیوی کو اس کے حیض کے دوران تین طلاقیں دیں تھیں، تو انہیں اس عورت سے رجوع کرنے کا حکم دیا گیا۔ میں اس روایت کو مستند سمجھتا رہا، انہوں نے مجھے یہ بات بتائی: انہوں نے سیدنا عبداللہ بن عمر سے اس بارے میں دریافت کیا تھا، تو سیدنا عبداللہ نے انہیں بتایا تھا کہ انہوں نے اپنی بیوی کو اس کے حیض کے دوران ایک طلاق دی تھی، تو انہیں اس عورت سے رجوع کرنے کا حکم دیا گیا تھا، ابوغلاب بیان کرتے ہیں: میں نے سیدنا عبداللہ سے دریافت کیا: ”کیا اس طلاق کو شمار کیا تھا؟“ تو سیدنا عبداللہ نے فرمایا: ”کیوں نہیں، کیا وہ عاجز تھا؟“