سنن الدارقطني
كتاب الطلاق والخلع والإيلاء وغيره— طلاق اور لعان کا بیان
أَوَّلُ كِتَابِ الطَّلَاقِ وَغَيْرِهِ باب: طلاق، خلع، ایلاء، وغیرہ کے بارے میں روایات
نَا ابْنُ صَاعِدٍ ، نَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ ، نَا بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ، عَنْ نَافِعٍ ، أَنَّ ابْنَ عُمَرَ أَخْبَرَهُ ، أَنَّهُ طَلَّقَ امْرَأَتَهُ وَهِيَ حَائِضٌ تَطْلِيقَةً ، فَاسْتَفْتَى عُمَرُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : " إِنَّ عَبْدَ اللَّهِ طَلَّقَ امْرَأَتَهُ وَهِيَ حَائِضٌ ، فَقَالَ : مُرْ عَبْدَ اللَّهِ فَلْيُرَاجِعْهَا ، ثُمَّ يُمْسِكْهَا حَتَّى تَطْهُرَ مِنْ حَيْضَتِهَا هَذِهِ ، فَإِذَا حَاضَتْ أُخْرَى وَطَهُرَتْ ، فَإِنْ شَاءَ فَلْيُطَلِّقْهَا قَبْلَ أَنْ يُجَامِعَهَا ، وَإِنْ شَاءَ فَلْيُمْسِكْهَا فَإِنَّهَا الْعِدَّةُ الَّتِي أَمَرَ اللَّهُ أَنْ تُطَلَّقَ لَهَا النِّسَاءُ " ، وَكَذَلِكَ قَالَ صَالِحُ بْنُ كَيْسَانَ ، وَمُوسَى بْنُ عُقْبَةَ ، وَإِسْمَاعِيلُ بْنُ أُمَيَّةَ ، وَلَيْثُ بْنُ سَعْدٍ ،وَابْنُ أَبِي ذِئْبٍ ، وَابْنُ جُرَيْجٍ ، وَجَابِرٌ ، وَإِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عُقْبَةَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنَّهُ طَلَّقَ امْرَأَتَهُ تَطْلِيقَةً وَاحِدَةً . وَكَذَلِكَ قَالَ الزُّهْرِيُّ ، عَنْ سَالِمٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، وَيُونُسُ بْنُ جُبَيْرٍ ، وَالشَّعْبِيُّ ، وَالْحَسَنُ.سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: انہوں نے اپنی اہلیہ کو طلاق دے دی، وہ عورت اس وقت حیض کی حالت میں تھی، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کا حکم دریافت کیا، انہوں نے عرض کی: ”عبداللہ نے اپنی بیوی کو طلاق دے دی ہے، وہ عورت حیض کی حالت میں تھی۔“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عبداللہ سے کہو کہ وہ اس عورت سے رجوع کر لے اور جب تک وہ اس حیض سے پاک نہیں ہو جاتی، اسے اپنے ساتھ رکھے، جب اسے اگلی مرتبہ حیض آئے اور اس کے بعد وہ پاک ہو جائے، اس وقت اگر وہ چاہے، تو اس عورت کے ساتھ صحبت کرنے سے پہلے اسے طلاق دے دے، اور اگر چاہے، تو اسے اپنے ساتھ رہنے دے، یہ وہ طریقہ ہے، جس کے بارے میں اللہ نے یہ حکم دیا ہے، اس کے مطابق عورتوں کو طلاق دی جائے۔“ صالح بن کیسان، موسیٰ بن عقبہ، اسماعیل بن امیہ، لیث بن سعد، ابن ابی ذئب، ابن جریج، جابر، اسماعیل بن ابراہیم نے نافع کے حوالے سے سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے یہ بات نقل کی ہے، انہوں نے ایک طلاق دی تھی۔ زہری نے سالم کے حوالے سے ان کے والد (سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما) سے یہی بات نقل کی ہے۔ یونس بن جبیر، شعبی اور حسن بصری نے بھی یہی بات نقل کی ہے۔