حدیث نمبر: 3897
نَا أَبُو بَكْرٍ ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ عُزَيْزٍ هُوَ الأَيْلِيُّ ، نَا سَلامَةُ ، عَنْ عَقِيلٍ ، وَنا يُوسُفُ بْنُ سَعِيدٍ ، نَا حَجَّاجٌ ، عَنْ لَيْثٍ ، عَنْ عَقِيلٍ ، وَنا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، نَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ حُمَيْدٍ ، نَا صَالِحُ بْنُ أَبِي الأَخْضَرِ ، جَمِيعًا عَنِ الزُّهْرِيِّ ، بِهَذَا قَالَ : فَذَكَرَ ذَلِكَ عُمَرُ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَتَغَيَّظَ فِيهِ . وَقَالَ صَالِحٌ : فَتَغَيَّظَ عَلَى عَبْدِ اللَّهِ ، ثُمَّ ذَكَرَ نَحْوَهُ.
محمد محی الدین

یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ بھی منقول ہے، تاہم اس میں یہ الفاظ ہیں: سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اس بات کا تذکرہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بارے میں ناراضگی کا اظہار کیا۔ صالح نامی راوی نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ کے بارے میں ناراضگی کا اظہار کیا (اس کے بعد راوی نے حسب سابق حدیث ذکر کی ہے)۔

حوالہ حدیث سنن الدارقطني /  كتاب الطلاق والخلع والإيلاء وغيره / حدیث: 3897
تخریج حدیث «أخرجه البخاري فى ((صحيحه)) برقم: 4908، 5251، 5252، 5253، 5258، 5332، 5333، 7160، ومسلم فى ((صحيحه)) برقم: 1471، 1471،ومالك فى ((الموطأ)) برقم: 1139 ، وابن حبان فى ((صحيحه)) برقم: 4263، والحاكم فى ((مستدركه)) برقم: 3008، والنسائي فى ((المجتبیٰ)) برقم: 3391 ، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 2179، 2181، 2182، 2183، 2184، 2185، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 1175، 1176، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 3893، 3894، 3895، 3896، 3897، 3899، 3900، 3901، 3902، 3903، 3904، 3905، 3906، 3907، 3908، 3909، 3910، 3911، 3912، 3913، 3914، 3915، 3916، 3918، 3919، 3966، 3967، 3968، 3969، 3974، 3975، 4022، 4023، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 310، وابن أبى شيبة فى ((مصنفه)) برقم: 18027، 18028»