حدیث نمبر: 3896
نَا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، وَأَبُو الأَزْهَرِ ، قَالا : نَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، نَا ابْنُ أَخِي الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عَمِّهِ ، أَخْبَرَنِي سَالِمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ ، قَالَ : " طَلَّقْتُ امْرَأَتِي وَهِيَ حَائِضٌ ، فَذَكَرَ ذَلِكَ عُمَرُ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَتَغَيَّظَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : لِيُرَاجِعْهَا ، ثُمَّ لِيُمْسِكْهَا حَتَّى تَحِيضَ حَيْضَةً مُسْتَقْبَلَةً سِوَى حَيْضَتِهَا الَّتِي طَلَّقَهَا فِيهَا ، فَإِنْ بَدَا لَهُ أَنْ يُطَلِّقَهَا فَلْيُطَلِّقْهَا طَاهِرًا مِنْ حَيْضَتِهَا ، قَبْلَ أَنْ يَمَسَّهَا فَذَلِكَ الطَّلاقُ لِلْعِدَّةِ كَمَا أَمَرَ اللَّهُ ، وَكَانَ عَبْدُ اللَّهِ طَلَّقَهَا تَطْلِيقَةً فَحُسِبَ فِي طَلاقِهَا وَرَاجَعَهَا عَبْدُ اللَّهِ كَمَا أَمَرَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " ،.
محمد محی الدین

سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: میں نے اپنی بیوی کو طلاق دے دی، جو حیض کی حالت میں تھی، سیدنا عمر نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس بات کا ذکر کیا، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ناراضگی کا اظہار کیا، اور فرمایا: ”اس عورت سے وہ رجوع کر لے، پھر اسے اس وقت تک اپنے ساتھ رکھے، جب تک اگلا حیض نہیں آ جاتا، جو اس حیض کے علاوہ ہو، جس میں اس نے طلاق دی ہے، پھر اگر اسے مناسب محسوس ہو، تو اس عورت کو اس وقت طلاق دے، جب وہ اس اگلے حیض سے پاک ہو جائے اور یہ طلاق اس کے ساتھ صحبت کرنے سے پہلے ہو، یہ طلاق اس طریقہ کے مطابق ہو گی، جس کا اللہ نے حکم دیا ہے۔“ سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے اس عورت کو ایک طلاق دی تھی، ان کو یہ طلاق شمار کی گئی تھی، پھر سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے اس عورت کے ساتھ رجوع کر لیا تھا، جیسا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں یہ حکم دیا تھا۔

حوالہ حدیث سنن الدارقطني /  كتاب الطلاق والخلع والإيلاء وغيره / حدیث: 3896
تخریج حدیث «أخرجه البخاري فى ((صحيحه)) برقم: 4908، 5251، 5252، 5253، 5258، 5332، 5333، 7160، ومسلم فى ((صحيحه)) برقم: 1471، 1471،ومالك فى ((الموطأ)) برقم: 1139 ، وابن حبان فى ((صحيحه)) برقم: 4263، والحاكم فى ((مستدركه)) برقم: 3008، والنسائي فى ((المجتبیٰ)) برقم: 3391 ، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 2179، 2181، 2182، 2183، 2184، 2185، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 1175، 1176، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 3893، 3894، 3895، 3896، 3897، 3899، 3900، 3901، 3902، 3903، 3904، 3905، 3906، 3907، 3908، 3909، 3910، 3911، 3912، 3913، 3914، 3915، 3916، 3918، 3919، 3966، 3967، 3968، 3969، 3974، 3975، 4022، 4023، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 310، وابن أبى شيبة فى ((مصنفه)) برقم: 18027، 18028»