سنن الدارقطني
كتاب الطلاق والخلع والإيلاء وغيره— طلاق اور لعان کا بیان
أَوَّلُ كِتَابِ الطَّلَاقِ وَغَيْرِهِ باب: طلاق، خلع، ایلاء، وغیرہ کے بارے میں روایات
نَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ الْقَطَّانُ ، وَآخَرُونَ ، قَالُوا : نَا إِدْرِيسُ بْنُ عَبْدِ الْكَرِيمِ الْمُقْرِئُ ، نَا لَيْثُ بْنُ حَمَّادٍ ، نَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ ، نَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ سُمَيْعٍ الْحَنَفِيُّ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : قَالَ رَجُلٌ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنِّي أَسْمَعُ اللَّهَ تَعَالَى يَقُولُ : الطَّلاقُ مَرَّتَانِ سورة البقرة آية 229 ، فَأَيْنَ الثَّالِثَةُ ؟ ، قَالَ : فَإِمْسَاكٌ بِمَعْرُوفٍ أَوْ تَسْرِيحٌ بِإِحْسَانٍ سورة البقرة آية 229 هِيَ الثَّالِثَةُ " ، كَذَا قَالَ : عَنْ أَنَسٍ ، وَالصَّوَابُ عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ سُمَيْعٍ ، عَنْ أَبِي رَزِينٍ ، مُرْسَلٌ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ایک شخص نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں عرض کی: میں نے اللہ کا یہ فرمان سنا ہے: ”طلاق دو مرتبہ ہو گی۔“ پھر تیسری طلاق کا حکم کہاں سے آیا؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (اللہ تعالیٰ نے یہ بھی فرمایا ہے) ”پھر معروف طریقے سے روکنا ہو گا، یا احسان کے ساتھ آزاد کرنا ہو گا (اس سے مراد تیسری طلاق ہے)۔“ راوی نے اسے سیدنا انس رضی اللہ عنہ کے حوالے سے نقل کیا ہے، تاہم درست یہ ہے کہ یہ روایت اسماعیل بن سمیع کے حوالے سے، ابورزین کے حوالے سے مرسل روایت کے طور پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول ہے۔