حدیث نمبر: 3883
نَا نَا أَبُو بَكْرٍ الشَّافِعِيُّ ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ شَاذَانَ ، نَا مُعَلَّى بْنُ مَنْصُورٍ ، نَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنِ الشَّيْبَانِيِّ ، عَنْ بَحْرِيَّةَ بِنْتِ هَانِئٍ الأَعْوَرِ أَنَّهُ سَمِعَهَا ، تَقُولُ : " زَوَّجَهَا أَبُوهَا رَجُلا وَهُوَ نَصْرَانِيُّ ، وَزَوَّجَتْ نَفْسَهَا الْقَعْقَاعَ بْنَ شَوْرٍ ، فَجَاءَ أَبُوهَا إِلَى عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، فَأَرْسَلَ إِلَيْهَا وَوَجَدَ الْقَعْقَاعَ قَدْ بَاتَ عِنْدَهَا ، وَقَدِ اغْتَسَلَ فَجِئَ بِهِ إِلَى عَلِيٍّ ، وَإِنَّ عَلَيْهِ خَلُوقًا ، فَقَالَ أَبُوهَا : " فَضَحَتْنِي وَاللَّهِ مَا أَرَدْتُ هَذَا ، قَالَ : أَتَرَى بِنَائِي يَكُونُ سِرًّا ، فَارْتَفَعُوا إِلَى عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، فَقَالَ : دَخَلْتَ بِهَا ؟ ، قَالَ : نَعَمْ ، فَأَجَازَ نِكَاحَهَا " ، بَحْرِيَّةُ مَجْهُولَةٌ.
محمد محی الدین

بحریہ بنت ہانی بن قبیصہ بیان کرتی ہیں: ان کے والد نے ان کی شادی ایک ایسے شخص کے ساتھ کر دی، جو عیسائی تھا، اس عورت نے خود قعقاع بن سور کے ساتھ شادی کر لی، اس لڑکی کا والد سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے پاس آیا، سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے قعقاع کو بلایا، اس وقت وہ اس عورت کے ساتھ صحبت کرنے کے بعد غسل بھی کر چکے تھے، انہیں سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی خدمت میں لایا گیا، تو ان پر زرد رنگ کا نشان موجود تھا، لڑکی کے باپ نے کہا: ”تم نے مجھے رسوائی کا شکار کیا، میں یہ نہیں چاہتا تھا۔“ تو قعقاع بولے: ”کیا تم یہ سمجھتے ہو کہ میں نے چھپ کر شادی کی ہے؟“ ان لوگوں نے اپنا مقدمہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے سامنے پیش کیا، تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے دریافت کیا: ”کیا تم اس عورت کے ساتھ صحبت کر چکے ہو؟“ انہوں نے جواب دیا: ”جی ہاں۔“ تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے اس عورت کو اپنی شادی خود کر لینے کو درست قرار دیا۔ بحریہ نامی عورت مجہول ہے۔

حوالہ حدیث سنن الدارقطني /  كتاب النكاح / حدیث: 3883
تخریج حدیث «أخرجه البيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 13766، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 3882، 3883، وابن أبى شيبة فى ((مصنفه)) برقم: 16197»