حدیث نمبر: 3882
نَا نَا أَبُو بَكْرٍ الشَّافِعِيُّ ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ شَاذَانَ ، نَا مُعَلَّى بْنُ مَنْصُورٍ ، نَا ابْنُ إِدْرِيسَ ، عَنِ الشَّيْبَانِيِّ ، عَنْ بَحْرِيَّةَ بِنْتِ هَانِئِ بْنِ قَبِيصَةَ ، قَالَتْ : " زَوَّجْتُ نَفْسِي الْقَعْقَاعَ بْنَ شَوْرٍ ، وَبَاتَ عِنْدِي لَيْلَةً ، وَجَاءَ أَبِي مِنَ الأَعْرَابِ فَاسْتَعْدَى عَلِيًّا ، وَجَاءَتْ رُسُلُهُ فَانْطَلَقُوا بِهِ إِلَيْهِ ، فَقَالَ : أَدْخَلَتْ بِهَا ؟ ، قَالَ : نَعَمْ ، فَأَجَازَ النِّكَاحَ " .محمد محی الدین
بحریہ بنت ہانی بن قبیصہ بیان کرتی ہیں: میں نے قعقاع بن سور کے ساتھ شادی کر لی، وہ ایک رات میرے ساتھ رہے، پھر میرے والد، جو دیہاتی آدمی تھے، انہوں نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی خدمت میں مقدمہ پیش کر دیا، سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے قاصد آئے اور انہیں اپنے ساتھ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے پاس لے گئے، سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے دریافت کیا: ”کیا تم اس عورت کے ساتھ صحبت کر چکے ہو؟“ اس نے جواب دیا: ”جی ہاں۔“ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے اس نکاح کو برقرار رکھا۔