نَا نَا مُحَمَّدُ بْنُ نُوحٍ الْجُنْدِيسَابُورِيُّ ، نَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ سَعْدٍ ، نَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، نَا الأَعْمَشُ ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنِي أَشْيَاخٌ مِنَّا ، قَالُوا : جَاءَ رَجُلٌ إِلَى عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ ، فَقَالَ : يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ ، " إِنِّي غِبْتُ عَنِ امْرَأَتِي سَنَتَيْنِ فَجِئْتُ وَهِيَ حُبْلَى ، فَشَاوَرَ عُمَرُ النَّاسَ فِي رَجْمِهَا ، قَالَ : فَقَالَ مُعَاذُ بْنُ جَبَلٍ : يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ ، إِنْ كَانَ لَكَ عَلَيْهَا سَبِيلٌ فَلَيْسَ لَكَ عَلَى مَا فِي بَطْنِهَا سَبِيلٌ ، فَاتْرُكْهَا حَتَّى تَضَعَ ، فَتَرَكَهَا فَوَلَدَتْ غُلامًا قَدْ خَرَجَتْ ثَنَيَاهُ فَعَرَفَ الرَّجُلُ الشَّبَهَ فِيهِ ، فَقَالَ : ابْنِي وَرَبِّ الْكَعْبَةِ ، فَقَالَ عُمَرُ عَجَزَتِ النِّسَاءُ أَنْ يَلِدْنَ مثل مُعَاذٍ لَوْلا مُعَاذٌ هَلَكَ عُمَرُ " .ابوسفیان نامی راوی بیان کرتے ہیں: ہمارے کچھ بزرگوں نے یہ بات بیان کی ہے: ایک شخص سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا اور بولا: ”اے امیر المؤمنین! دو سال کے بعد اپنی بیوی کے پاس آیا، تو وہ حاملہ تھی۔“ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اس عورت کو سنگسار کرنے کے بارے میں لوگوں سے مشورہ کیا، تو سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”اے امیر المؤمنین! آپ اس عورت کو تو سزا دے سکتے ہیں، لیکن اس کے پیٹ میں موجود بچے کو سزا نہیں دے سکتے، اس لیے آپ اسے اس وقت تک چھوڑے رکھیں، جب تک وہ بچے کو جنم نہ دے۔“ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اسے چھوڑ دیا، اس نے ایک لڑکے کو جنم دیا، جس کے سامنے کے دانت باہر کی طرف نکلے ہوئے تھے، جس کے نتیجے میں اس شخص کو بچے کی اپنے ساتھ مشابہت کا پتہ چلا، وہ بولا: ”رب کعبہ کی قسم! یہ میرا بیٹا ہے۔“ تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”عورتیں اس بات سے عاجز آ گئی ہیں کہ وہ معاذ جیسے بچے کو جنم دیں، اگر معاذ نہ ہوتا، تو عمر ہلاکت کا شکار ہو جاتا۔“