نَا يَحْيَى بْنُ صَاعِدٍ ، نَا بُنْدَارٌ ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ غُنْدَرٌ ، نَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، عَنْ عَطَاءٍ ، قَالَ : جَاءَتِ امْرَأَةٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " تَشْكُو زَوْجَهَا ، فَقَالَ : رُدِّي عَلَيْهِ حَدِيقَتَهُ ، قَالَتْ : نَعَمْ وَزِيَادَةً ، قَالَ : أَمَّا الزِّيَادَةُ فَلا " ، خَالَفَهُ الْوَلِيدُ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، أَسْنَدَهُ عَنْ عَطَاءٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسِ . وَالْمُرْسَلُ أَصَحُّ.عطاء بیان کرتے ہیں: ایک خاتون نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی، اس نے اپنے شوہر کی شکایت کی، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس شخص کا باغ اسے واپس کر دو (جو اس نے تمہیں مہر میں دیا تھا، اور خلع حاصل کر لو)۔“ وہ عورت بولی: ”ٹھیک ہے، میں اس کے ساتھ مزید بھی دوں گی۔“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مزید (ادائیگی) کی ضرورت نہیں ہے۔“ ولید نے ابن جریح کے حوالے سے مختلف سند نقل کی ہے، انہوں نے اسے عطاء کے حوالے سے، سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے نقل کیا ہے، تاہم اس کا مرسل ہونا درست ہے۔