حدیث نمبر: 3853
نَا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ ، نَا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الأَشْعَثِ ، بِدِمَشْقَ ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكَّارٍ ، نَا سَعِيدُ بْنُ بَشِيرٍ ، أَنَّهُ سَأَلَ قَتَادَةَ عَنِ الظِّهَارِ ، قَالَ : فَحَدَّثَنِي ، أَنَّ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ ، قَالَ : إِنَّ أَوْسَ بْنَ الصَّامِتِ ظَاهَرَ مِنِ امْرَأَتِهِ خُوَيْلَةَ بِنْتِ ثَعْلَبَةَ ، فَشَكَتْ ذَلِكَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَتْ : ظَاهَرَنِي حِينَ كَبِرَتْ سِنِّي وَرَقَّ عَظْمِي ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ آيَةَ الظِّهَارِ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، لأَوْسٍ : " أَعْتِقْ رَقَبَةً ، قَالَ : مَالِي بِذَلِكَ يَدَانِ ، قَالَ : فَصُمْ شَهْرَيْنِ مُتَتَابِعَيْنِ ، قَالَ : أَمَّا إِنِّي إِذَا أَخْطَأَنِي أَنْ آكُلَ فِي الْيَوْمِ مَرَّتَيْنِ يَكِلُّ بَصَرِي ، قَالَ : فَأَطْعِمْ سِتِّينَ مِسْكِينًا ، قَالَ : لا أَجِدُ إِلا أَنْ تُعِينَنِي مِنْكَ بِعَوْنٍ وَصِلَةٍ ، قَالَ : فَأَعَانَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِخَمْسَةَ عَشَرَ صَاعًا ، حَتَّى جَمَعَ اللَّهُ لَهُ ، وَاللَّهُ رَحِيمٌ ، قَالَ : وَكَانُوا يَرَوْنَ أَنَّ عِنْدَهُ مِثْلَهَا ، وَذَلِكَ لِسِتِّينَ مِسْكِينًا " .
محمد محی الدین

سعید بن بشیر بیان کرتے ہیں: انہوں نے قتادہ سے ظہار کے بارے میں دریافت کیا، تو قتادہ نے بتایا: سیدنا انس رضی اللہ عنہ نے مجھے یہ حدیث سنائی ہے: سیدنا اوس بن صامت رضی اللہ عنہ نے اپنی اہلیہ خویلہ بنت ثعلبہ رضی اللہ عنہا کے ساتھ ظہار کر لیا، اس خاتون نے اس بات کی شکایت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کی اور بولی: ”انہوں نے اس وقت میرے ساتھ ظہار کر لیا ہے، جب میری عمر زیادہ ہو گئی، ہڈیاں کمزور ہو گئی ہیں۔“ تو اللہ تعالیٰ نے ظہار کے متعلق آیت نازل کی، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا اوس رضی اللہ عنہ کو حکم دیا: ”تم ایک غلام آزاد کرو۔“ انہوں نے عرض کی: ”میرے پاس اس کی گنجائش نہیں ہے۔“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم لگاتار دو ماہ کے روزے رکھو۔“ انہوں نے عرض کی: ”میری یہ حالت ہے کہ اگر میں ایک دن (کسی وقت) کھانا نہ کھا سکوں، تو میری نظر متاثر ہوتی ہے (یعنی کمزور بڑھ جاتی ہے)۔“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلاؤ۔“ انہوں نے عرض کی: ”میری یہ حیثیت بھی نہیں ہے، البتہ اگر آپ میری مدد کریں اور صلہ رحمی سے کام لیں (تو میں ایسا کر سکتا ہوں)۔“ راوی بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پندرہ صاع مدد کے طور پر انہیں دیے، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے جمع کر دیا، اور اللہ نہایت رحم کرنے والا ہے۔ راوی کہتے ہیں: لوگ یہ سمجھتے تھے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے نزدیک یہ مقدار ہے، کیونکہ یہ اناج ساٹھ مسکینوں کے لیے تھا۔

حوالہ حدیث سنن الدارقطني /  كتاب النكاح / حدیث: 3853
تخریج حدیث «أخرجه الدارقطني فى ((سننه)) برقم:3853 ، انفرد به المصنف من هذا الطريق»