سنن الدارقطني
كتاب الطهارة— پاکی کا بیان
بَابُ مَا رُوِيَ فِي فَضْلِ الْوُضُوءِ وَاسْتِيعَابِ جَمِيعِ الْقَدَمِ فِي الْوُضُوءِ بِالْمَاءِ باب: : وضو کی فضیلت اور وضو کے دوران پورے پاؤں تک اچھی طرح پانی پہنچانے کے بارے میں جو کچھ منقول ہے
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، نا الْحَسَنُ بْنُ عَرَفَةَ ، نا هُشَيْمٌ ، عَنِ الْحَجَّاجِ ، وَعَبْدِ الْمَلِكِ ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنْ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ اللَّيْثِيِّ ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، رَأَى رَجُلا وَبِظَهْرِ رِجْلِهِ لُمْعَةٌ لَمْ يُصِبْهَا الْمَاءُ ، فَقَالَ لَهُ عُمَرُ : " أَبِهَذَا الْوُضُوءِ تَحْضُرُ الصَّلاةَ ؟ " ، قَالَ : يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ ، الْبَرْدُ شَدِيدٌ وَمَا مَعِيَ مَا يُدَفِّينِي ، فَرَّقَ لَهُ بَعْدَمَا هَمَّ بِهِ ، قَالَ : فَقَالَ لَهُ : " اغْسِلْ مَا تَرَكْتَ مِنْ قَدَمِكَ ، وَأَعِدِ الصَّلاةَ " ، وَأَمَرَ لَهُ بِخَمِيصَةٍ .سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ بات منقول ہے: ایک مرتبہ انہوں نے ایک شخص کو دیکھا، جس کے پاؤں کی پشت کا کچھ حصہ خشک تھا، وہاں تک پانی نہیں پہنچا تھا تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اس سے فرمایا: ”کیا اس وضو کے ساتھ تم نماز میں شامل ہوئے ہو؟“ اس نے عرض کی: ”اے امیر المؤمنین! سردی بہت زیادہ ہے اور میرے پاس ایسی کوئی چیز نہیں ہے جو اس کو روک سکے۔“ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ پہلے اس پر سختی کرنے لگے تھے، یہ بات سن کر نرم پڑ گئے اور اس سے فرمایا: ”تم نے اپنے پاؤں کا جو حصہ چھوڑا ہے، اسے دھو لو اور نماز دوبارہ پڑھو۔“ پھر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اسے جبہ دینے کی ہدایت کی۔