حدیث نمبر: 385
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، نا الْحَسَنُ بْنُ عَرَفَةَ ، نا هُشَيْمٌ ، عَنِ الْحَجَّاجِ ، وَعَبْدِ الْمَلِكِ ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنْ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ اللَّيْثِيِّ ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، رَأَى رَجُلا وَبِظَهْرِ رِجْلِهِ لُمْعَةٌ لَمْ يُصِبْهَا الْمَاءُ ، فَقَالَ لَهُ عُمَرُ : " أَبِهَذَا الْوُضُوءِ تَحْضُرُ الصَّلاةَ ؟ " ، قَالَ : يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ ، الْبَرْدُ شَدِيدٌ وَمَا مَعِيَ مَا يُدَفِّينِي ، فَرَّقَ لَهُ بَعْدَمَا هَمَّ بِهِ ، قَالَ : فَقَالَ لَهُ : " اغْسِلْ مَا تَرَكْتَ مِنْ قَدَمِكَ ، وَأَعِدِ الصَّلاةَ " ، وَأَمَرَ لَهُ بِخَمِيصَةٍ .
محمد محی الدین

سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ بات منقول ہے: ایک مرتبہ انہوں نے ایک شخص کو دیکھا، جس کے پاؤں کی پشت کا کچھ حصہ خشک تھا، وہاں تک پانی نہیں پہنچا تھا تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اس سے فرمایا: ”کیا اس وضو کے ساتھ تم نماز میں شامل ہوئے ہو؟“ اس نے عرض کی: ”اے امیر المؤمنین! سردی بہت زیادہ ہے اور میرے پاس ایسی کوئی چیز نہیں ہے جو اس کو روک سکے۔“ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ پہلے اس پر سختی کرنے لگے تھے، یہ بات سن کر نرم پڑ گئے اور اس سے فرمایا: ”تم نے اپنے پاؤں کا جو حصہ چھوڑا ہے، اسے دھو لو اور نماز دوبارہ پڑھو۔“ پھر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اسے جبہ دینے کی ہدایت کی۔

حوالہ حدیث سنن الدارقطني / كتاب الطهارة / حدیث: 385
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح ، وأخرجه مسلم فى ((صحيحه)) برقم: 243، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 666، والبيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 327، 395، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 382، 383، 384، 385، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 136، 155، وأبو يعلى فى ((مسنده)) برقم: 2312، والبزار فى ((مسنده)) برقم: 232، وعبد الرزاق فى ((مصنفه)) برقم: 118، والطبراني فى ((الأوسط)) برقم: 2219، والطبراني فى ((الصغير)) برقم: 27، وابن أبى شيبة فى ((مصنفه)) برقم: 449، 450، 457»