حدیث نمبر: 3846
نَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ ، نَا عَلِيُّ بْنُ سَهْلِ بْنِ الْمُغِيرَةِ ، نَا أَبُو نُعَيْمٍ ، نَا شَيْبَانُ ، عَنْ يَحْيَى ، عَنْ عُمَرَ بْنِ مُعَتِّبٍ ، أَنَّ أَبَا حَسَنٍ مَوْلَى بَنِي نَوْفَلٍ، أَنَّهُ اسْتَفْتَى ابْنَ عَبَّاسٍ " فِي مَمْلُوكٍ كَانَتْ تَحْتَهُ مَمْلُوكَةٌ فَطَلَّقَهَا تَطْلِيقَتَيْنِ ، وَبَانَتْ مِنْهُ ، ثُمَّ إِنَّهُمَا أُعْتِقَا بَعْدَ ذَلِكَ ، هَلْ يَصِحُّ لِلرَّجُلِ أَنْ يَخْطُبَهَا ، قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ : نَعَمْ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَضَى بِذَلِكَ " .محمد محی الدین
ابوحسن بیان کرتے ہیں: میں نے سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے ایسے غلام کے بارے میں دریافت کیا، جس کی بیوی کنیز ہو اور پھر وہ اسے دو طلاقیں دے دے اور وہ عورت اس سے بائنہ ہو جائے، پھر وہ دونوں ایک ساتھ آزاد ہو جائیں، تو کیا وہ مرد اس عورت کو نکاح کا پیغام دے سکتا ہے، تو سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: ”جی ہاں، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فیصلہ دیا ہے۔“