سنن الدارقطني
كتاب الطهارة— پاکی کا بیان
بَابُ مَا رُوِيَ فِي فَضْلِ الْوُضُوءِ وَاسْتِيعَابِ جَمِيعِ الْقَدَمِ فِي الْوُضُوءِ بِالْمَاءِ باب: : وضو کی فضیلت اور وضو کے دوران پورے پاؤں تک اچھی طرح پانی پہنچانے کے بارے میں جو کچھ منقول ہے
حدیث نمبر: 384
وَحَدَّثَنَا وَحَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْوَاسِطِيُّ ، ثنا مُوسَى بْنُ إِسْحَاقَ ، نا أَبُو بَكْرٍ ، نا عَبْدُ الرَّحِيمِ بْنُ سُلَيْمَانَ ، عَنْ حَجَّاجٍ ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنْ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَأَى رَجُلا فِي رِجْلِهِ لُمْعَةً لَمْ يُصِبْهَا الْمَاءُ حِينَ تَطَهَّرَ ، فَقَالَ لَهُ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ : " بِهَذَا الْوُضُوءِ تَحْضُرُ الصَّلاةَ ؟ " ، وَأَمَرَهُ أَنْ يَغْسِلَ اللُّمْعَةَ وَيُعِيدَ الصَّلاةَ .محمد محی الدین
عبید بن عمیر بیان کرتے ہیں: سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے ایک مرتبہ ایک شخص کو دیکھا جس کے پاؤں کا کچھ حصہ خشک تھا اور وضو کرتے ہوئے وہاں تک پانی نہیں پہنچا تھا تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اس سے فرمایا: ”اس وضو کے ساتھ تم نماز میں شریک ہو گئے تھے؟“ پھر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اسے حکم دیا: ”وہ اس خشک جگہ کو دھوئے اور دوبارہ نماز پڑھے۔“