نَا نَا أَبُو عَلِيٍّ الْمَالِكِيُّ ، نَا أَبُو حَفْصٍ عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ ، نَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، نَا ثَوْرُ بْنُ يَزِيدَ ، قَالَ : سَمِعْتُ رَجَاءَ بْنَ حَيْوَةَ ، قَالَ : سُئِلَ عَمْرُو بْنُ الْعَاصِ ، " عَنْ عِدَّةِ أُمِّ وَلَدٍ ، فَقَالَ : لا تَلْبَسُوا عَلَيْنَا دِينَنَا ، إِنْ تَكُنْ أَمَةً فَإِنْ عِدَّتَهَا عِدَّةُ حُرَّةٍ " ، وَرَوَاهُ سُلَيْمَانُ بْنُ مُوسَى ، عَنْ رَجَاءِ بْنِ حَيْوَةَ ، عَنْ قَبِيصَةَ بْنِ ذُؤَيْبٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ مَوْقُوفًا أَيْضًا . وَرَفَعَهُ قَتَادَةُ ، وَمَطَرٌ الْوَرَّاقُ . وَالْمَوْقُوفُ أَصَحُّ وَقَبِيصَةُ لَمْ يَسْمَعْ مِنْ عَمْرٍو .رجاء بن حیوہ بیان کرتے ہیں: سیدنا عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ سے ام ولد کی عدت کے بارے میں دریافت کیا گیا، تو انہوں نے فرمایا: ”تم ہمارے سامنے دینی احکام خلط ملط نہ کرو، اگر یہ کنیز شمار ہوتی، تو اس کی عدت تو آزاد عورت کی عدت جتنی ہوتی۔“ یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ سیدنا عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ تک موقوف روایت کے طور پر منقول ہے، قتادہ اور مطر نے اس روایت کو مرفوع حدیث کے طور پر نقل کیا ہے، لیکن اس کا موقوف ہونا درست ہے، قبیصہ نامی راوی نے سیدنا عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ سے احادیث کا سماع نہیں کیا۔