حدیث نمبر: 3831
نَا نَا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ ، نَا الْعَبَّاسُ بْنُ الْوَلِيدِ بْنِ مَزْيَدٍ ، نَا عُقْبَةُ بْنُ عَلْقَمَةَ ، أَخْبَرَنِي مُسْلِمُ بْنُ خَالِدٍ ، حَدَّثَنِي جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، عَنْ حُسَيْنِ بْنِ عَلِيٍّ ، أَنَّ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، كَانَ يَقُولُ " فِي الرَّجُلِ يَبْتَاعُ الْجَارِيَةَ فَيُصِيبُهَا ، ثُمَّ يَظْهَرُ عَلَى عَيْبٍ فِيهَا لَمْ يَكُنْ رَآهُ أَنَّ الْجَارِيَةَ تَلْزَمُهُ ، وَيُوضَعُ عَنْهُ قَدْرُ الْعَيْبِ ، وَقَالَ : لَوْ كَانَ كَمَا يَقُولُ النَّاسُ ، يَرُدُّهَا وَيَرُدُّ الْعَقْرَ كَانَ ذَلِكَ شِبْهَ الإِجَارَةِ ، وَكَانَ الرَّجُلُ يُصِيبُهَا ، وَهُوَ يَرَى الْعَيْبَ لَمْ يَرُدِّ الْعَقْرَ ، وَلَكِنَّهُ إِذَا أَصَابَهَا لَزِمَتْهُ الْجَارِيَةُ ، وَوُضِعَ عَنْهُ قَدْرُ الْعَيْبِ " .
محمد محی الدین

امام جعفر صادق رحمہ اللہ اپنے والد (امام باقر رضی اللہ عنہ) کے حوالے سے اپنے دادا (امام زین العابدین رحمہ اللہ) کے حوالے سے امام حسین رضی اللہ عنہ کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: سیدنا علی رضی اللہ عنہ ایسے شخص کے بارے میں جس نے کوئی کنیز خریدی، اس کے ساتھ صحبت کی، پھر اس کنیز میں موجود کسی عیب کا پتہ چلا، یہ فرماتے ہیں: ”وہ کنیز اس شخص کے پاس رہے گی، اور اس کی قیمت میں سے اس عیب کے حساب سے کمی کر دی جائے گی۔“ سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ”اگر حکم اسی طرح ہو جیسے بعض لوگ کہتے ہیں، تو وہ شخص اس عورت کو واپس کرے گا، اور اس کے ساتھ عقر (شبہ کے طور پر وطی کرنے کی صورت میں ادا کیا جانے والا معاوضہ) بھی ادا کرے گا، تو یہ اجارہ کے مشابہ ہو جائے گا، تو یہ اس طرح ہو گا جیسے اس نے جب اس کنیز کے ساتھ صحبت کی، اس وقت وہ اس عیب کو دیکھ چکا تھا اور پھر اس نے (اس کے معاوضے کے طور پر) عقر ادا کر دیا، لیکن (حکم یہی ہے) جب وہ اس کنیز کے ساتھ صحبت کر لے گا، تو وہ کنیز اس کی ہو جائے گی اور عیب کے حساب سے اس کی قیمت کم کر دی جائے گی۔“

حوالہ حدیث سنن الدارقطني /  كتاب النكاح / حدیث: 3831
تخریج حدیث «أخرجه البيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 10858، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 3831، 3832، 3833، 3835، وعبد الرزاق فى ((مصنفه)) برقم: 14685، وابن أبى شيبة فى ((مصنفه)) برقم: 21280»