سنن الدارقطني
كتاب الطهارة— پاکی کا بیان
بَابُ مَا رُوِيَ فِي فَضْلِ الْوُضُوءِ وَاسْتِيعَابِ جَمِيعِ الْقَدَمِ فِي الْوُضُوءِ بِالْمَاءِ باب: : وضو کی فضیلت اور وضو کے دوران پورے پاؤں تک اچھی طرح پانی پہنچانے کے بارے میں جو کچھ منقول ہے
حَدَّثَنَا أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ صَاعِدٍ ، إِمْلاءً ، حَدَّثَنَا أَبُو فَرْوَةَ يَزِيدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يَزِيدَ بْنِ سِنَانٍ ، نا الْمُغِيرَةُ بْنُ سِقْلابٍ ، ثنا الْوَازِعُ بْنُ نَافِعٍ ، وَحَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، نا عَبْدُ الْكَرِيمِ بْنُ الْهَيْثَمِ ، نا مُصْعَبُ بْنُ سَعِيدٍ ، نا الْمُغِيرَةُ بْنُ سِقْلابٍ الْحَرَّانِيُّ ، عَنِ الْوَازِعِ بْنِ نَافِعٍ الْعُقَيْلِيِّ ، عَنْ سَالِمٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، عَنْ عُمَرَ ، عَنْ أَبِي بَكْرٍ ، قَالَ : كُنْتُ جَالِسًا عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَجَاءَ رَجُلٌ .سالم نے سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے حوالے سے، انہوں نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے حوالے سے، سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کا یہ بیان نقل کیا ہے: ”ایک مرتبہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھا ہوا تھا، اسی دوران ایک شخص آیا۔“ ایک اور روایت میں یہ بات منقول ہے، سالم نے سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے حوالے سے، سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے یہ روایت نقل کی ہے جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں ہے۔ راوی بیان کرتے ہیں: ایک مرتبہ ایک شخص آیا، جس نے وضو کیا تھا اور اس نے اپنے پاؤں کی پشت کا کچھ حصہ، جو اس کے پاؤں کے ناخن کے انگوٹھے جتنا تھا، اس تک پانی نہیں پہنچایا تھا (یعنی وہ حصہ وضو میں خشک رہ گیا تھا) تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”تم واپس جاؤ اور اپنے وضو کو مکمل کرو!“ تو اس شخص نے ایسا ہی کیا۔