حدیث نمبر: 3810
نَا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ ، حَدَّثَنِي يُوسُفُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، أَنَّ امْرَأَةً جَاءَتْ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِابْنٍ لَهَا ، قَالَتْ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، " بَطْنِي كَانَ لَهُ وِعَاءً ، وَثَدْيِي كَانَ لَهُ سِقَاءً ، وَحِجْرِي كَانَ لَهُ حُوَاءً ، وَإِنَّ أَبَاهُ يُرِيدُ أَنْ يَنْتَزِعَهُ مِنِّي ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَنْتِ أَحَقُّ بِهِ ، مَا لَمْ تَتَزَوَّجِي " .محمد محی الدین
عمرو بن شعیب اپنے والد کے حوالے سے اپنے دادا کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: ایک خاتون نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی اور عرض کی: ”یا رسول اللہ! میرا پیٹ اس کے لیے برتن تھا، میری چھاتی اس کے لیے سیرابی کا ذریعہ تھی، اور میری گود اس کے لیے پناہ گاہ تھی، اب اس کا باپ اسے مجھ سے الگ کرنا چاہتا ہے۔“ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”تم اس (کی پرورش) کی زیادہ حق دار ہو، جب تک تم (دوسری) شادی نہیں کر لیتی۔“