نَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الصَّمَدِ بْنِ الْمُهْتَدِي بِاللَّهِ ، نَا الْوَلِيدُ بْنُ حَمَّادِ بْنِ جَابِرٍ الرَّمْلِيُّ ، نَا حُسَيْنُ بْنُ أَبِي السَّرِيِّ ، نَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَعْيَنَ ، نَا حَفْصُ بْنُ سُلَيْمَانَ الأَسَدِيُّ ، عَنِ الْكُمَيْتِ بْنِ زَيْدٍ ، حَدَّثَنِي مَذْكُورٌ مَوْلَى زَيْنَبَ بِنْتِ جَحْشٍ ، عَنْ زَيْنَبَ بِنْتِ جَحْشٍ ، قَالَتْ : " خَطَبَنِي عِدَّةٌ مِنْ قُرَيْشٍ فَأَرْسَلَتْ أُخْتِي حَمْنَةَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَسْتَشِيرُهُ ، فَقَالَ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَيْنَ هِيَ مِمَّنْ يُعَلِّمُهَا كِتَابَ رَبِّهَا وَسُنَّةَ نَبِيِّهَا ؟ " ، قَالَتْ : وَمَنْ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ ، قَالَ : زَيْدُ بْنُ حَارِثَةَ ، فَغَضِبَتْ حَمْنَةُ غَضَبًا شَدِيدًا ، وَقَالَتْ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَتُزَوِّجُ ابْنَةَ عَمِّكَ مَوْلاكَ ؟ ، قَالَتْ : وَجَاءَتْنِي فَأَخْبَرَتْنِي فَغَضِبْتُ أَشَدَّ مِنْ غَضَبِهَا وَقُلْتُ أَشَدَّ مِنْ قَوْلِهَا ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ وَمَا كَانَ لِمُؤْمِنٍ وَلا مُؤْمِنَةٍ إِذَا قَضَى اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَمْرًا أَنْ يَكُونَ لَهُمُ الْخِيَرَةُ مِنْ أَمْرِهِمْ سورة الأحزاب آية 36 ، فَأَرْسَلْتُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ زَوِّجْنِي مِمَّنْ شِئْتَ ، فَزَوَّجَنِي زَيْدَ بْنَ حَارِثَةَ فَأَخَذْتُهُ بِلِسَانِي ، فَشَكَانِي إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : أَمْسِكْ عَلَيْكَ زَوْجَكَ وَاتَّقِ اللَّهَ " ، وَذَكَرَ بَاقِيَ الْحَدِيثِ.سیدہ زینب بنت جحش رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: قریش سے تعلق رکھنے والے چند افراد نے مجھے نکاح کا پیغام بھیجا، تو میں نے اپنی بہن حمنہ بنت جحش رضی اللہ عنہا کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں بھیجا تاکہ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس بارے میں مشورہ لوں۔ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا: ”وہ اس شخص کے ساتھ شادی کیوں نہیں کرتی، جس نے اسے اس کے پروردگار کی کتاب اور اس کے نبی کی سنت کی تعلیم دی ہے؟“ حمنہ نے دریافت کیا: یا رسول اللہ! وہ کون شخص ہے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”زید بن حارثہ۔“ تو حمنہ کو غصہ آیا، اس نے عرض کی: یا رسول اللہ! کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے چچا زاد کی شادی اپنے (آزاد شدہ، سابقہ) غلام کے ساتھ کریں گے؟ سیدہ زینب رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: حمنہ میرے پاس آئی اور مجھے اس بارے میں بتایا، تو مجھے اس سے زیادہ غصہ آیا اور میں نے اس سے زیادہ سخت الفاظ استعمال کیے۔ تو اللہ نے یہ آیت نازل کی: ”کسی بھی مومن مرد یا عورت کو (اس بارے میں اختیار نہیں ہے) کہ جب اللہ اور اس کا رسول کسی معاملے میں فیصلہ دیں، تو انہیں اپنے اس معاملے میں (اس فیصلے سے مختلف کام کرنے) کا اختیار ہو۔“ سیدہ زینب رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو پیغام بھیجا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم جس کے ساتھ چاہیں میری شادی کروا دیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ میری شادی کروا دی۔ میں نے ان کے ساتھ تیز مزاجی کا مظاہرہ کیا، تو انہوں نے میری شکایت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم اپنی بیوی کو اپنے ساتھ رکھو (یعنی اسے طلاق دینے کا نہ سوچو) اور اللہ تعالیٰ سے ڈرو۔“ اس کے بعد انہوں نے باقی حدیث ذکر کی ہے۔