نَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، نَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ أَبِي مَسَرَّةَ ، نَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمُقْرِئُ ، نَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي أَيُّوبَ ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ عَجْلانَ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " خَيْرُ الصَّدَقَةِ مَا كَانَ عَنْ ظَهْرِ غِنًى ، وَالْيَدُ الْعُلْيَا خَيْرٌ مِنَ الْيَدِ السُّفْلَى ، وَابْدَأْ بِمَنْ تَعُولُ، قَالَ : وَمَنْ أَعُولُ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ ، قَالَ : امْرَأَتُكَ تَقُولُ : أَطْعِمْنِي وَإِلا فَارِقْنِي ، خَادِمُكَ يَقُولُ : أَطْعِمْنِي وَاسْتَعْمِلْنِي ، وَلَدُكَ يَقُولُ : إِلَى مَنْ تَتْرُكُنِي ؟ " .سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”سب سے بہترین صدقہ وہ ہے جو خوشحالی کے عالم میں دیا جائے (یعنی صدقہ دینے کے بعد آدمی خود تنگ دست نہ ہو)، اور اوپر والا ہاتھ نیچے والے ہاتھ سے بہتر ہوتا ہے، (تم اللہ کی راہ میں خرچ کرتے ہوئے) اس سے آغاز کرو جو تمہارے زیر کفالت ہے۔“ راوی بیان کرتے ہیں: میں نے عرض کی: ”یا رسول اللہ! میرے زیر کفالت کون ہے؟“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”تمہاری بیوی جو یہ کہے گی: تم مجھے کھانے کے لیے دو، ورنہ مجھ سے علیحدگی اختیار کر لو، تمہارا غلام جو یہ کہے گا: پہلے مجھے کھانے کے لیے دو، پھر مجھ سے کام لینا، اور تمہاری اولاد جو یہ کہے گی: تم مجھے کس کے آسرے پر چھوڑ کر جا رہے ہو۔“